پاکستانی یونیورسٹیز میں ہولی منانے پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا، وزارت تعلیم

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جامعات میں ہولی کی تقریبات کے انعقاد کے خلاف نوٹی فکیشن واپس لے لیا گیا ہے اور کمیشن کو آئندہ ایسے اقدامات سے روک دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں مختلف اراکین اسمبلی کے نکتہ ہائے اعتراض کے جواب میں رانا تنویر حسین نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ہولی کے تہوار پر ایک خط کا ذکر ہے اور سوشل میڈیا پر ہولی کی تقریبات کی آڑ میں بعض ایسی باتیں سامنے آئیں جن کی ہمارا معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے فرمودات کے مطابق ہر مذہب کا پیروکار یہاں آزاد ہے اور وہ اپنی مذہبی تقریبات آزادی کے ساتھ منعقد کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے رات دس بجے اس معاملے کا علم ہوا اور میں نے کہا کہ یہ خط واپس لیا جائے، علی الصبح مجھے بتایا گیا کہ یہ خط واپس لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس معاملے کا انتہائی سخت نوٹس لیا ہے اور ہولی پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ بھارت میں اس حوالے سے واویلا حقائق کے برعکس ہے اور وہاں تو مسلمانوں کو عید کی نماز تک پڑھنے نہیں دی جاتی، اس کے برعکس یہاں غیر مسلم پاکستانی مکمل آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو آئندہ ایسے اقدامات سے روک دیا ہے، ان سے کہا ہے کہ آپ کا کام معیار تعلیم کو بہتر بنانا ہے لہٰذا آپ اسی پر توجہ دیں۔