خیبر پختونخوا: سرکاری گاڑیوں کی خریداری اور سرکاری خرچ پر علاج پر پابندی عائد

خیبر پختونخوا کی نگران حکومت نے سرکاری گاڑیوں کی خریداری اور سرکاری خرچ پر علاج و معالجے پر پابندی عائد کردی۔ دستاویزات کے تحت سرکاری گاڑیوں کی خریداری کے ساتھ سرکاری خرچے پر علاج اور بیرون ملک سیمینارز میں صوبائی فنڈز سے شرکت پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

دستاویز کے مطابق سوائے پروموشن کے ذریعے خالی آسامیوں پر کوئی تقرری نہیں کی جائے گی، گزشتہ 3 سالوں سے خالی پڑی تمام آسامیاں ختم کر دی جائیں گی، کسی بھی ترقیاتی اسکیم جس میں آسامیاں، گاڑیوں اور مشینری کی خریداری ہو تو اس پر پابندی ہوگی، سڑکوں  اور عمارتوں کی خصوصی مرمت پر کوئی فنڈ استعمال نہیں کیا جائے گا۔

نئی پالیسی کے تحت پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ بہتر منصوبہ بندی اور کفایت شعاری کا پابند ہوگا، گرانٹس کی ادائیگی کے لیے وزیراعلیٰ کی اجازت لازمی ہوگی۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ مالیاتی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ خزانہ ماہانہ وصولیاں کرے گا، سالانہ ترقیاتی بجٹ میں کفایت شعاری پالیسی اپنائی جائے گی اور خودمختار یا نیم خود مختار ادارے متعلقہ فورمز کی منظوری سے اخراجات کے پابند ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کی نگران حکومت کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کی مونٹائزیشن کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔

محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے کار مونٹائزیشن پالیسی کے تحت نگران صوبائی حکومت کو تجاویز ارسال کی تھیں۔ ذرائع کے مطابق مونٹائزیشن پالیسی کے تحت سرکاری افسر اپنے تصرف میں موجود گاڑی 2 سے 3 اقساط میں خرید سکے گا۔