خیبرپختونخوا کیلئے4 ماہ کےاخراجات پرمشتمل بجٹ تیار

خیبرپختونخوا کی نگراں حکومت آئندہ مالی سال2023-24کے ابتدائی 4 ماہ کا بجٹ آج پیش کریگی جس کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کیلئے4 ماہ کےاخراجات پرمشتمل بجٹ تیار کرلیا گیا ہے۔ جس میں اخراجات کا کل تخمینہ462ارب16کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے،

بجٹ دستاویز کے مطابق بندوبستی اضلاع کیلئے402ارب61کروڑ70 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ قبائلی اضلاع کیلئے59 ارب 54 کروڑ30لاکھ روپے رکھنےکی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے112 ارب11کروڑ90 لاکھ روپے اور بندوبستی اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے43 ارب33کروڑ30لاکھ مختص کیے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق بندوبستی اضلاع کی مقامی حکومتوں کیلئے8 ارب66کروڑ70 لاکھ رکھنےکی تجویز ہے جبکہ قبائلی اضلاع کےسالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے8ارب66کروڑ70 لاکھ روپے رکھنےکی تجویز دی گئی ہے۔

کے پی بجٹ میں تنخواہوں کیلئے192 ارب97کروڑ80لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے اور پنشن کے  لئے 42ارب36 کروڑ10 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

موجودہ بجٹ میں مزدورکی ماہانہ اجرت26ہزار سے بڑھا32ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور بجٹ میں ایک سے16 تک گریڈ کےملازمین کی تنخواہوں میں35 فیصد اضافے کی بھی تجویز ہے۔

اس کے علاوہ گریڈ 17 اوراس سے اوپر کےملازمین کی تنخواہوں میں30 فیصد اضافے اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ساڑھے17فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

ڈیپوٹیشن الاؤنس کی مد میں50فیصد اضافے اور ملازمین کے سیکریٹریٹ پرفارمنس الاؤنس میں100فیصد اضافے جبکہ معذورملازمین کے کنونس الاؤنس میں100 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق پولیس اہلکاروں کے راشن الاؤنس میں اضافہ کیا جائے گا، بجٹ میں سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پاپندی اور بی آر ٹی کیلئے سبسڈی مد میں ایک ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔