تحادیوں میں اختلافات، گورنر پختونخوا کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے بعد مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے صوبائی قائدین نے بھی گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔

حکومتی اتحادی جماعتوں کی صوبائی قیادت گورنر خاجی غلام علی کے کردار سے ناراض ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے مقامی رہنماؤں نے پارٹی قیادت سے گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے صوبائی رہنماء اختیار ولی نے کنونشن سے خطاب میں کہا کہ صوبے میں گورنر راج قائم ہے، مسلم لیگ کے کارکنان صوبے میں 3 دہائیوں سے اپوزیشن میں ہیں۔

انہوں نے قیادت سے مطالبہ کیا کہ گورنر کو ہٹا کر نون لیگ کارکنان کے ہاتھ کھول دیے جائیں، اتحادی گورنر اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ہمارے کارکن منہ دیکھ رہے ہیں، گورنر لیگی کارکنان پر بھی راج کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سابق رکن پختونخوا اسمبلی نگہت اورکزئی نے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا کہ گورنر غلام علی کو عہدے سے ہٹایا جائے، صوبے میں گورنر راج نہیں مانتے، جیالوں پر گورنر ہاؤس کے دروازے بند کیے گئے ہیں۔ چند روز قبل عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا۔

انہوں نے وزیراعظم کو گورنر کے رویے سے متعلق آگاہ کیا تھا اور کہا کہ گورنر کا عہدہ سیاسی فائدوں کیلئے استعمال ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ ہے، وفاق اپنے نمائندہ کو آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز سے منع کرے، گورنر نے مداخلت بند نہیں کی تو ہم اپنا راستہ اختیار کریں گے۔ خیال رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کا تعلق جمعیت علمائے اسلام سے ہے اور وہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی عزیز ہیں۔