”خواتین کھلاڑیوں کیلئے الگ سہولیات فراہم کی جائیں گی”

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

”قبائلی خاتون کھلاڑی ہونے کی وجہ سے اپنے گاؤں میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنتی ہوں لوگ کہتے ہیں کہ لڑکی ہو کر لڑکوں کی طرح کھیلتی ہے، خیبر ضلع میں واحد خاتون کھلاڑی ہوں لیکن یہاں خواتین کے لیے نہ کوئی علیحدہ گراونڈ ہے نہ کوئی مخصوص فنڈ جس سے کوئی فیمیل کھلاڑی مستفید ہوسکے۔”

قباٸلی ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل سےتعلق رکھنے والی جماٸمہ آفریدی ایک ابھرتی ہوٸی کرکٹر ہیں۔ نادرخان گاؤں سے تعلق رکھنے والی خاتون کھلاڑی جمائمہ آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ سکول لیول سے لیکر کالج لیول تک مختلف کھیل کھیل چکی ہیں۔

جمائمہ کہتی ہیں کہ خیبر ضلعی کی وہ واحد لڑکی ہے جو سپورٹس میں ہے تو لوگ کافی تنقید کرتے ہیں کیونکہ ان کے لیے یہ چیز نئی ہے۔

جمائمہ نے چوتھے صوبائی کھیلوں میں بھی حصہ لیا اور اس نے ووشو یعنی کراٹوں میں کسی بھی تجربہ اورٹریننگ کے بغیر کانسی کا تمغہ جیتا۔

پھر 2018 میں جمائمہ نے خیبر پختونخوا کے فرسٹ ویمن کرکٹ لیگ میں لنڈی کوتل (ضلع خیبر) سے حصہ لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریجنل لیول پر بیڈمنٹن میں بھی حصہ لیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔

دوسری جانب قبائلی اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد وہاں مختلف ترقیاتی کام جاری ہے اور سپورٹس کو فروغ دینے کے لیے صوبائی حکومت نے ضم شدہ اضلاع کے تمام 25 سب ڈویژنوں میں کھیلوں کے میدان بنانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

ڈائریکٹر سپورٹس خیبرپختونخوا اسفندیار خٹک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان میدانوں میں ضرورت کے مطابق کھلاڑیوں کو تمام سہولیات مہیا کی جائیں گی۔ کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر کے علاوہ حکومت نے قبائلی علاقوں میں امسال مختلف ٹورنامنٹس کے انعقاد کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

اسفند یار خٹک کے مطابق کمیٹی میں انتظامی اہلکاروں کے علاوہ کھلاڑی اور آفیشلز بھی شامل ہیں جن کا کام قبائلی علاقوں میں کھیلوں کی ترقی اور مقابلوں کے انعقاد کیلئے پالیسی بنانا ہے۔

قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن گل حبیب وزیر نے حکومت کی نیت پر شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اعلانات تو بہت کیے جاتے ہیں تاہم حقیقت کا روپ ان میں سے کم ہی دھار لیتے ہیں، میدان کی تعمیر یا ٹورنامنٹ کے انعقاد سے قبل کھیلوں کی مقامی ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لینا چاہیے کیونکہ وہ مقامی سطح پر مختلف قسم کے رجحانات اور مسائل سے آگاہ ہوتی ہیں۔

تاہم ان علاقوں سے سہولیات کے فقدان کا گلہ ہمیشہ سے سامنے آتا رہا ہے اور بقول مقامی لوگوں کےغریب کھلاڑیوں کا ٹیلنٹ سامنے آنے سے قبل ہی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ یہاں سہولیات کا فقدان ہیں۔

باڑہ قبائلی ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے جوڈو کراٹے کے کھلاڑی محمد نبی کے مطابق حکومت ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں کے میدان بنانے سے مزید ٹیلنٹ سامنے آجائے گا۔

محمد نبی کا کہنا تھا کہ اپنے دور میں وہ بھی بڑے کٹھن حالات سے گزرے اور مقابلوں سے قبل حکومتی سرپرستی تو دور کی بات قومی چیمپئن بننے کے بعد بھی مقامی انتظامیہ اور محکمہ کھیل نے ان کو پوچھا تک نہیں۔

محمد نبی گزشتہ 15 سال سے کراٹے کے مقابلوں میں حصہ لیتے آرہے ہیں اور قومی چیمپئن شپ میں سلور اور گولڈ میڈلز ہی نہیں جیتے بلکہ بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی بھی کی ہے۔

دوسری طرف صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے کھیلوں کی فروغ کے لئے دو طرح کے فنڈز مہیا کیے ہیں۔ اے آئی پی (ایکسیلیریٹڈ ایمپلیمینٹیشن پروگرام) اور اے ڈی پی یعنی سالانہ ترقیاتی فنڈ۔ اے آئی پی میں صوبائی حکومت نے کھیلوں کے میدان بنانے کے لئے ٹوٹل 7500 ملین روپے مختص کیے ہیں۔ یہ منصوبہ تین سالوں میں مکمل کیا جائے گا اور اس کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

ہر قبائلی ضلع میں ایک سپورٹس کمپلیکس تعمیر ہوگا جس میں فٹ بال، کرکٹ، ہاکی اور انڈور جیسے والی بال، باسکٹ بال، ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن کھیلوں کے لئے ہال تعمیر ہونگے۔ اس کے لئے  200 سے لیکر 250 کنال تک کی زمین خریدی جائی گی۔

اسی طرح ہر ایک سب ڈویژن کی سطح پر منی سپورٹس کمپلیکس تعمیر ہوگا جس کے لئے 100 سے لیکر 150 کنال تک زمین خریدی جائی گی۔

اسی طرح حکومت کی جاری ترقیاتی سکیموں میں 6 سپورٹس سٹیڈیم جنوبی وزیرستان میں تعمیر کیے جارہے ہیں۔ کرم ضلع میں 3، شمالی وزیرستان اور مہمند ضلعوں میں 2، 2 اور باجوڑ ضلع میں1 سٹیڈیم تعمیر کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کھیلوں کے انفراسٹرکچر کے ساتھ کھیلوں کے میدانوں کے آباد کاری پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

اے آئی پی سے 1000 ملین کی سکیم منظور ہوچکی ہے جس میں قبائلی اضلاع میں ٹوٹل 31 کھیل کھیلے جائیں گے۔ یہ سکیم 3 سالوں کے لئے ہے، اس میں 176000 مرد وخواتین کھلاڑی حصہ لیں گے جن میں 21390 خواتین کھلاڑی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ  اس سال جاری کھیلوں کے منصوبوں پر تقریباً 100ملین روپے خرچ کیے جائیں گے جس میں ہر قبائلی ضلع اور سب ڈویژن سے کھلاڑی حصہ لیں گے اور یہ کھیل تمام قبائلی اضلاع اور سب ڈویژن میں کھیلٰے جائیں گے، 243 ملین کھیلوں کی سہولیات پر خرچ ہوں گے۔

سپورٹس بجٹ میں خواتین کے لیے کوئی الگ بجٹ نہیں رکھا گیا ہے البتہ جن علاقوں میں خواتین کھلاڑی ہوں گی وہاں ان کیلئے الگ سہولیات فراہم کی جائیں گی، اور اے آئی پی اور اے ڈی پی کے منصوبے کے تحت ان کیلئے ہر ضلع میں انڈور جمنازیم کی تعمیر کے علاوہ کالجز میں ان کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔

اے ڈی پی کے تحت اس مالی سال میں ٹوٹل 48000 مرد و خواتین کھلاڑیوں کے درمیان مختلف کیھل منعقد ہونگے جس میں 7000 فیمیل کھلاڑی مختف کھیلوں والی بال،بیڈ منٹن،ٹیبل ٹینس،ایتھلیٹکس اور وار اف ٹگ میں حصہ لیں گی۔