جماعت اسلامی نے وزیرستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کردی

جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی صوبائی مجلس عاملہ نے وزیرستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت کردی۔ المرکز الاسلامی پشاور میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی صدارت میں منعقدہ صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس میں فوجی آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری جنرل عبدالواسع، نائب امراء مولانا محمد اسماعیل، عنایت اللہ خان، نورالحق اور دیگر ذمہ داران شریک تھے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی فوجی آپریشن کی کسی صورت حمایت نہیں کرتی، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

جماعت اسلامی ملک میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں ہے، موجودہ حکومت کا صوبہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ آپریشنوں میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہوا ہے، تعلیمی ادارے، مارکیٹیں، کاروبار اور لوگوں کے گھر بار تباہ ہوگئے ہیں، لوگوں کو متعین وقت میں امدادی رقوم نہ مل سکیں۔ ضم شدہ اضلاع کے ساتھ جو وعدے کیے گئے وہ بھی تاحال پورے نہیں کیے گئے، نہ ہی بجٹ میں انہیں کوئی حصہ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی قومی سلامتی کمیٹی کے آپریشن کے فیصلے کی مذمت کرتی ہے، ہم ایسے کسی بھی فیصلے کی حمایت نہیں کریں گے جس میں عوام کی جان و مال کا حرج ہو۔

قومی سلامتی کمیٹی کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ صوبے کے عوام بھی اس فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے، اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے، پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنا حکومتوں کا فیشن بن چکا ہے۔ اس سے پارلیمان کا وقار مجروح ہوگا، ہم پارلیمنٹ کا وقار مجروح نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی حکومت اسٹیک ہولڈرز ہیں، فوجی آپریشن کے معاملے پر گورنر اور صوبائی حکومت اپنی پوزیشن واضح کریں، فوجی آپریشن کا فیصلہ صوبے کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ اس سے بدامنی میں مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت پہلے ہی تباہ ہے، خیبر پختونخوا نے پہلے بھی فوجی آپریشن بھگتے ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات، 2004ء میں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن آج بھی جاری ہیں لیکن دہشت گردی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں فوجی آپریشن کے حوالے سے اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس ملک میں امن و مان کی خواہاں ہے، پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا امن کو ترس رہے ہیں، وزیرستان یا دیگر اضلاع میں فوجی آپریشن کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے۔