ملک چھوڑنے والے نوجوانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ

ملک کی بدترین مالی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر پاکستان چھوڑنے کی خواہش رکھنے والے نوجوانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی رپورٹ میں پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ نے ایک خطرناک رجحان کے بارے میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال سے نیا پاسپورٹ بنوانے والوں کی تعداد بڑھ کر 30 ہزار روزانہ تک پہنچ گئی ہے.

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹوریٹ پہلے پاکستان اور بیرون ممالک میں روزانہ کم و بیش 20 ہزار پاسپورٹ بناتا تھا لیکن اب روزانہ بڑی تعداد میں پاکستانی پاسپورٹ کے حصول کے لئے درخواستیں جمع کرا رہے ہیں، پاسپورٹ بنوانے والوں میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 2022ء میں صرف ایک سال میں 7 لاکھ 65 ہزار لوگ پاکستان چھوڑ کر دیگر ممالک چلے گئے، ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین کی بہت بڑی تعداد شامل تھی جب کہ 2021ء میں پاکستان چھوڑنے والوں کی تعداد 2 لاکھ 25 ہزار تھی، 2020ء میں امیگرینٹس کی تعداد 2 لاکھ 88 ہزار تھی، 2019ء میں سوا 6 لاکھ پاکستانی بیرون ملک گئے۔

اسی طرح 2018ء میں 3 لاکھ 82 ہزار، 2017ء میں 4 لاکھ 96 ہزار، 2016ء میں 8 لاکھ 39 ہزار، 2015ء میں 9 لاکھ 46 ہزار، 2014ء میں 7 لاکھ 52 ہزار، 2013ء میں 6 لاکھ 22 ہزار، 2012ء میں 6 لاکھ 38 ہزار، 2011ء میں 4 لاکھ 56 ہزار اور 2010ء میں 3 لاکھ 62 ہزار پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک روانہ ہوئے۔

بیورو آف امیگریشن کے ایک افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خراب ملکی معیشت اور سیاسی عدم استحکام پاکستان کی ورک فورس پر اثرانداز ہو رہی ہے، لاکھوں نوجوان مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی معاشی و سیاسی صورت حال کے سبب فکرمند ہو کر بیرون ملک روزگار کی تلاش میں نکل جاتے ہیں.

پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک جانے والوں کی زیادہ تر تعداد مشرق وسطیٰ کے ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات منتقل ہوئی تاہم یورپ کا رخ کرنے والے پاکستانیوں میں زیادہ تر رومانیہ چلے گئے۔