ٹی ٹی پی کو آباد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، آج بھی حل صرف مذاکرات ہیں: عمران خان

سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو واپس آباد کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا.

انہوں نے کہا ہے کہ آج بھی حل یہی ہے کہ ان سے مذاکرات کریں اور اگر کسی چیز پر مذاکرات نہیں ہو سکتےتو پھر آپ کو بندوقیں اٹھانی پڑیں گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھاکہ افغان طالبان نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے 30 سے 40 ہزار لوگ افغانستان میں ہیں، ان کو واپس لے جاؤ، ان میں سے 5 سے 6 ہزار جنگجو بھی تھے۔

انہوں نے کہا کہ جب افغان طالبان نے کہہ دیا کہ انھیں واپس لے جاؤ تو ہمارے پاس کیا راستہ تھا؟ انہیں پکڑ کر ماردیتے یا پھر مقامی افراد کی مشاورت سے معاشرتی دھارے میں واپس لے کرآتے.

انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے پاس کالعدم ٹی ٹی پی کے ان لوگوں کے حوالے سےکوئی تیسری چوائس نہیں تھی، جب افغانستان کی طرف سے کہا گیا کہ یہ پاکستان کے شہری ہیں انہیں واپس لے لو تو کیا کرتا پاکستان؟

انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کے پاس ان سے مذاکرات کر کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھاکہ اگرآپ ان لوگوں کو پاکستان میں لے آئے ہیں اور انہیں بحال بھی نہیں کیا تو مسائل تو آنے تھے، حل یہی ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کریں.

انہوں مزید کہا ہے کہ اگر کسی چیز پر مذاکرات نہیں ہو سکتےتو پھر آپ کو بندوقیں اٹھانی پڑیں گی، پہلی کوشش تو ہونی چاہیے کہ انتشار نہ ہوں،اس کے لیے مقامی لوگوں کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔

سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ گزشتہ برس موسم گرما میں انتہا پسندی نے سر اٹھانا شروع کیا، پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا کہ یہ بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے آپ کچھ کریں لیکن وفاقی حکومت نے اس مسئلے پر کوئی رسپانس نہیں دیا۔