ملک بھر میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز

قبایلی اضلاع سمیت پاکستان بھر میں میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز ہو گیا۔

دارالحکومت اسلام آباد میں چیف مردم شماری کمشنر ڈاکٹر نعیم الظفر نے مردم شماری کا افتتاح کیا۔

چیف مردم شماری کمشنر ڈاکٹر نعیم الظفر نے کہا کہ آج ملک بھر میں ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز ہو گیا ہے، 13جنوری 2022ء کو مشترکہ مفادات کونسل نے ڈیجیٹل مردم شماری کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مردم شماری سے متعلق تمام صوبوں کو آن بورڈ لیا گیا، ایک ماہ بعد قوم کو مردم شماری کے اعداد و شمار کے نتائج دیے جائیں گے، ایک لاکھ 15ہزار افراد پر مشتمل عملہ مردم شماری کرے گا۔

لاہور میں ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر نے اپنے گھر سے اندراج کر کے ڈیجیٹل مردم شماری کا آغاز کیا، انہوں نے مردم شماری ٹیموں کے ہمراہ مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔

ڈی سی لاہور رافعہ حیدر نے کہا کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ یکم سے 15 مارچ تک ہو گا، یکم سے 3 مارچ تک گھروں کی لسٹنگ، 4 سے 15مارچ تک اندراج کیا جائے گا، مردم شماری کا دوسرا مرحلہ 16 مارچ سے یکم اپریل تک ہو گا۔

رافعہ حیدر کا کہنا ہے کہ 16 سے 18مارچ بلاکس کی لسٹنگ، 18مارچ سے یکم اپریل تک اندراج ہو گا، لاہور کو 873 مردم شماری حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے، 200 سے 250 گھروں پر مشتمل 8 ہزار 68 مردم شماری بلاکس بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر بلاک میں 200 سے 250 گھر ہیں، ڈیٹا اندراج کے لیے 4 ہزار 707 ٹیبلٹس تقسیم کیے گئے ہیں۔

ادارہ شماریات کے ڈائریکٹر محمد صہیب نے کہا ہے کہ بلوچستان بھر میں آج سے ساتویں مردم شماری شروع ہو گئی، ملک میں پہلی بار ڈیجیٹل مردم شماری کی جا رہی ہے، ڈیجیٹل مردم شماری سے متعلق تمام انتظامات اور تیاریاں مکمل ہیں۔

محمد صہیب کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری کا عمل یکم اپریل تک جاری رہے گا، اس عرصہ کے دوران شمار کنندگان گھر گھر جا کر کوائف اکٹھا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خانہ و مردم شماری کے حوالے سے 11 ہزار 857 بلاکس بنائے گئے ہیں۔