پاک افغان سرحد پر غیر ضروری سختیوں کے خلاف تاجروں کا احتجاج

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

بائلی ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر تاجروں نے غیر ضروری سختیوں کے خلاف احتجاج شروع کردیا، مظاہرین کا کہنا ہے کہ طورخم اور غلام خان بارڈر جیسے قوانین کے نفاذ تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

ضلع کرم کے سرحدی علاقے خرلاچی میں پاک افغان سرحد پر تاجر برادری کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے تاجر رہنما زینت علی، عابد خٹک، ملک زرتاج علی، مصاحب حسین و دیگر نے کہا کہ ضلع کرم میں خرلاچی پاک افغان سرحد پر غیر ضروری سختیوں کی وجہ سے تجارت ختم ہوکر پانچ فیصد رہ گئی ہے اور تاجروں کے ساتھ ٹرانسپورٹرز اور مزدور طبقہ بھی بے روزگار ہوگیا ہے جس کی وجہ سے وہ احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں اور احتجاجاً تجارت بند کردی ہے۔

تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ غلام خان اور طورخم بارڈر کے طرز پر خرلاچی بارڈر پر گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت دی جائے۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ غلام خان اور طورخم بارڈر پر کسٹم کلیئرنس کے بعد گاڑیوں کو گیٹ پاس دیکر جانے کی اجازت دی جاتی ہے مگر خرلاچی بارڈر پر کلئیرنس کے بعد گڈز ڈیکلریشن طلب کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ضلع کرم میں غیر ضروری سختیوں کی وجہ سے پاک افغان سرحد پر تجارت ختم ہوکر پانچ فیصد رہ گئی ہے جس کی وجہ سے کاروباری لوگ بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔

رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ طورخم کے طرز پر خرلاچی بارڈر پر بھی تجارت کو فروغ دیا جائے اور غیر ضروری سختیوں سے اجتناب کیا جائے ورنہ ان کا احتجاج جاری رہے گا۔