صوابی پولیس کی ایک اور کامیابی، 4 شدت پسند گرفتار

صوابی پولس کی دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی، صوابی کو بڑی تباہی سے بچا لیا، چار شدت پسند گرفتار، تباہی کا باعث بننے والے مختلف بور کے اسلحہ، دستی بم اور دیگر خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کر لیا۔

اس سلسلے میں ڈی آئی جی مردان پولیس ریجن محمد علی خان کا ڈی پی او صوابی کیپٹن (ر) نجم الحسنین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 30 جنوری 2023 کو صوابی پولیس نے کامیاب آپریشن کر کے دو دہشت گرد کو ہلاک کیا تھا، ہلاک شدہ دہشگرد کمانڈر اظہار اللہ عرف شیراز افغانستان سے ٹیمیں تشکیل کر کے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور پولیس ٹارگٹ کلنگ کے منصوبے بناتا تھا۔

ڈی آئی جی مردان ریجن کے مطابق اس سے پہلے آپریشن کے دوران مارے گئے شدت پسند کمانڈر اظہار اللہ صوابی پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اور تھانہ جات پر دستی بموں میں ملوث تھا، اس کے سر کی قیمت حکومت پاکستان نے 20 لاکھ روپے مقرر کی تھی، کمانڈر اظہار اللہ نے صوابی پولیس اہلکار مبصر نادر، بختیار، ساجد بخت منیر کو شہید کیا تھا جبکہ تھانہ کالوخان اور یارحسین پر دستی بم حملوں میں ملوث رہا۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ آپریشن کے دوران چار دہشتگرد ثاقب سکنہ باجوڑ، عبدالرحمن سکنہ ہنڈ، عمران سکنہ مہمند اور زبیر سکنہ باجوڑ کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا اگلا ہدف پولیس اہلکار، اہم تنصیبات کو ٹارگٹ کرنا تھا، یہ ایک خطرناک نیٹ ورک جو افغانستان سے نومبر کے مہینہ میں پاکستان آیا۔

محمد علی خان نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردوں سے 5 کلو بارود، 18 عدد AGL ہینڈ گرنیڈ، 9 عدد ہینڈ گرنیڈ، 18 عدد الیکٹرک ڈیٹونیٹر، 28 عدد نان الیکٹرک ڈیٹیونیٹر، 60 فٹ سیفٹی فیوز، 60 فٹ پرائما/ڈیٹونیٹنگ کارڈ، 2 عدد ٹرانسمیٹر، 2 عدد ریسیور، 1 عدد AGL لانچر، 2 کلاشنکوف، 1 عدد پستول، 237 عدد مختلف بور کے کارتوس، 49 عدد ڈرائی بیٹری سیلز، 2 عدد وولٹ بیٹری، 2 آئیکون وائرلس سیٹ، 1 عدد بیگ، 4 عدد بنڈل وئیر، 4 عدد SMG میگزین، 2 گز وائر، 7 عدد موبائل فونز، 78 عدد سی ڈی ڈسک، اور 1 عدد پاسپورٹ بنام عبدالرحمن برآمد کیا گیا۔