سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف انتقال کر گئے

سابق صدر و سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف طویل علالت کے بعد 79 سال کی عمر میں انتقال کر گئے، سفارتی ذرائع نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے انتقال کی تصدیق کر دی۔

سابق صدر کے اہلخانہ نے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پرویز مشرف کا آج علی الصبح دبئی میں انتقال ہوا۔

یاد رہے کہ 11 اگست 1943 کو دہلی میں پیدا ہونے والے جنرل (ر) پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے تھے، 12 اکتوبر 1999 کو وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو ہٹا کر چیف ایگزیکٹو بنے اور بعد ازاں اپریل 2002 میں ریفرنڈم کرا کے باقاعدہ صدر پاکستان منتخب ہوئے۔

سال 2004 میں آئین میں 17ویں ترمیم کے ذریعے مزید 5 سال کے لیے پرویز مشرف باوردی صدر منتخب ہوئے، پرویز مشرف 18 اگست 2008 کو مستعفی ہو کر ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

وہ ایک طویل عرصہ سے دبئی کے امریکن ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔

مشرف دور کے اہم اقدامات

سب سے بڑا اقدام جو جنرل (ر) پرویز مشرف نے بطور سربراہِ مملکت اٹھایا، وہ 2001 کے نائن الیون واقعے کے بعد امریکا کی حمایت تھا۔ جس پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اسی اقدام کے نتیجے میں پاکستان کو طویل عرصے تک افغانستان سے دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔

بلاشبہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں متعدد معاشی و اقتصادی اصلاحات نافذ کی گئیں جس سے ملکی معیشت استحکام کی طرف لوٹی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی پاکستان کی طرف راغب کیا گیا۔

مذہبی انتہا پسندی کے خلاف اقدامات اٹھائے گئے جن میں لال مسجد آپریشن بھی شامل تھا جس پر جنرل (ر) پرویز مشرف کو اچھی خاصی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ قبائلی علاقہ جات میں کیا جانے والا عسکری آپریشن بھی اس کی ایک اہم مثال ہے۔

مسئلۂ کشمیر پر بات چیت کو فروغ دینا بھی جنرل (ر) مشرف کے اہم کارناموں میں شامل سمجھا جاتا ہے، اس معاملے میں عوام کو اس حد تک یقین ہو گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف مسئلۂ کشمیر کو اگر مکمل طور پر حل نہ کرسکے تو اس ضمن میں اہم ترین پیشرفت ضرور ممکن ہوجائے گی۔

سیاسی اور آئینی اصلاحات بھی جنرل پرویز مشرف کے دور کا اہم کارنامہ رہا جس میں قومی سلامتی کونسل کا قیام عمل میں لانا اور صوبوں کو اختیارات کی منتقلی شامل ہے۔

سن 2002 میں جنرل (ر) مشرف نے ایک ریفرنڈم منعقد کروایا جس میں عوام نے انہیں مبینہ طور پر اجازت دی کہ صدر اور آرمی چیف کے طور پر عوام کی خدمت مزید جاری رکھیں، جسے متنازعہ سمجھا جاتا ہے۔

میڈیا کو آزادی دینا بھی جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کا اہم اقدام ہے جس کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کی بھرمار ہوئی اور میڈیا نے آہستہ آہستہ ریاست کے چوتھے ستون کی جگہ سنبھال لی۔

مشرف پر حملے کب اور کہاں ہوئے؟۔

جنرل پرویز مشرف پر 14 اور 25 دسمبر 2003 کو راولپنڈی میں دو قاتلانہ حملے کیے گئے تھے جن کے الزام میں کل 16 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ان میں سے آٹھ افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے 14 دسمبر کو راولپنڈی کے علاقے جھنڈا چیچی میں ایک پل کو اس وقت بم سے نشانہ بنایا جب جنرل مشرف کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا، اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا جبکہ دیگرآٹھ ملزمان پر راولپنڈی ہی کے علاقے میں جھنڈا چیچی کے نزدیک دو مختلف پٹرول پمپس کے قریب جنرل مشرف کے قافلے پر خودکش حملوں کا الزام تھا جس میں سابق صدر تو محفوظ رہے لیکن خودکش حملہ آوروں سمیت 12 افراد مارے گئے تھے۔

جن ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے دو کا تعلق فوج جب کہ چھ کا پاکستان فضائیہ سے تھا جب کہ دیگر گرفتار افراد سویلین تھے۔

حملے کے جرم میں گرفتار افراد میں سے ایک پاکستانی فوج کے سپاہی اسلام صدیقی کو 2005 میں ملتان جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی، جب کہ ایئرفورس سے ہی تعلق رکھنے والے سینئر ٹیک کرم دین اور جونیئر ٹیک نصراللہ کو عمر قید جب کہ ایک سویلین عدنان خان کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

سابق صدر پر حملے میں ملوث ہونے کے جرم میں موت کی سزا پانے والے 12 افراد میں فوج کے نائیک کے علاوہ ایئرفورس کے چار اہلکار شامل تھے۔

انگریزی ماہنامہ ہیرالڈ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 25 دسمبر کے حملے کیلئے رانا نوید کے اے ڈی بی پی کالونی میں واقع فلیٹ میں اسلحہ رکھا گیا تھا۔

مواخذے کی کارروائی سے قبل استعفیٰ

سال 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کی زیرِ قیادت مخلوط حکومت نے پرویز مشرف کو رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کا موقع دینے کے بعد ان کے مواخذے کے لیے پارلیمانی طریقہ کار پر غور شروع کر دیا تھا۔

پرویز مشرف نے ابتدا میں استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور جب اتحادی حکومت نے ان کی برطرفی کے لیے باضابطہ کارروائی شروع کی تو مواخذے کے حتمی انجام تک پہنچنے سے پہلے انہوں نے رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیا۔

سابق صدر پرویز مشرف کو بے نظیر بھٹو، نواب اکبر بگٹی کے قتل اور نومبر 2007 کی ایمرجنسی کے بعد 62 ججز کی ’غیر قانونی قید‘ سے متعلق مقدمات میں بھی نامزد کیا گیا تھا، تاہم مارچ 2013 میں سندھ ہائی کورٹ نے انہیں تینوں مقدمات میں حفاظتی ضمانت دے دی۔

سال 2010 میں سابق فوجی حکمران نے اپنی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کا آغاز کیا۔

انتقال کی افواہیں

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پہلے بھی متعدد بار سابق صدر اور آرمی چیف جنرل مشرف کے انتقال کی افواہیں منظر عام پر آئیں، جس پر اہل خانہ کی جانب سے بارہا تردید کا بیان جاری کیا گیا۔

پرویز مشرف کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ماہ سے شدید علالت کے باعث دبئی کے ہسپتال میں داخل ہیں، ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے سابق آرمی چیف کے اہلخانہ نے بیان جاری کیا ہے کہ پرویز مشرف ’خرابی صحت کے اس مرحلے میں ہیں جہاں صحت یابی ممکن نہیں اور اعضا خراب ہو رہے ہیں۔‘

پرویز مشرف کے گھر والوں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ان کی روزمرہ زندگی میں آسانی کے لیے دعا کریں۔‘

پرویز مشرف کو کونسا مرض لاحق تھا؟

ذرائع کے مطابق پرویز مشرف ایمالوئڈوسس نامی ایسی بیماری میں مبتلا تھے، جس میں پروٹین کے مالیکیول درست طریقے سے تہہ نہیں ہوتے، اس لیے اپنا کام نہیں کر پاتے۔ ایمالوئڈوسس میں پروٹین کا مالیکیول بنتا تو درست طریقے سے ہے، لیکن فولڈنگ میں گڑبڑ ہو جاتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ناکارہ ثابت ہوتا ہے۔

یہ ایک دائمی میٹابولک بیماری ہے جس میں دل ، گردے، جگر اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف 18 مارچ 2016 سے متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں علاج کی غرض سے مقیم تھے۔