وادی تیراہ کو تحصیل کا درجہ دینے، ہسپتال کے قیام کا اعلان

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے قبائلی ضلع خیبر میں وادی تیراہ کو تحصیل کا درجہ دینے اور وہاں ہسپتال کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

وادی تیراہ ضلع خیبر کے دورہ کے دوران تیراہ ایجوکیشنل کمپلیکس پیندی چینہ میں تقریب اور تیراہ میں گرینڈ آفریدی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے تیراہ اور باڑہ میں پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے مجوزہ ڈیمز کی تعمیر اور تیراہ میں سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی یقینی دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سابقہ فاٹا اب بندوبستی علاقوں میں شامل ہے جن کی پسماندگی دور کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل کا سوچنا ہے، بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہیں تاہم انضمام مخالف عناصر کے پیٹ میں مروڑ اُٹھ رہے ہیں، قبائلی عوام کیلئے ہر وقت حاضر ہوں، بطور وزیراعلیٰ جو بھی ممکن ہوا کروں گا، مٹہ اور سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔

اس موقع پر ایم این اے اقبال آفریدی، ایم پی اے شفیق آفریدی، انسپکٹر جنرل فرنٹیر کور نارتھ میجر جنرل راحت نسیم خان، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، ڈی سی خیبر محمود اسلم اور دیگر متعلقہ حکام بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔

وزیراعلیٰ کو پاک افغان سرحد وادی تیراہ پر سکیورٹی اینڈ مینجمنٹ پر بریفینگ دی گئی، بعدازاں وزیراعلیٰ نے تیراہ ایجوکیشنل کمپلیکس پیندی چینہ میں تعلیمی سہولیات اور فرنٹیر کور کی جانب سے عوام کیلئے لگائے گئے تین روزہ فری میڈیکل کیمپ کا معائنہ کیا اور ایجوکیشنل کمپلیکس اور میڈیکل کیمپ پر انہیں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

اس موقع پر طلبہ و طالبات کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انضمام سے پہلے اور بعد کی صورتحال میں فرق نمایاں ہے، سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کی بدولت امن بحال ہوا ہے اور ہم بتدریج ترقی و خوشحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں، ایجوکیشنل کمپلیکس کو محکمہ تعلیم کے ذریعے تمام تر سہولیات مہیا کی جائیں گی

بعدازاں گرینڈ آفریدی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کی کوشش ہے کہ قبائلی اضلاع کو تیز تر ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کیا جائے، سابقہ فاٹا کا صوبے میں انضمام بلاشبہ ایک بڑا چیلنج تھا جسے ہم نے قبائلی عوام کے تعاون سے پورا کیا ہے، اُمید ہے کہ قبائلی عمائدین آئندہ بھی ترقی اور خوشحالی کے اقدامات کی کامیابی کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے 10 سالہ حکمت عملی وضع کی گئی ہے، علاوہ ازیں تیز رفتار عمل درآمد پروگرام کے تحت متعدد اقدامات جاری ہیں، صحت سہولت پروگرام کے تحت قبائلی عوام کو صحت انصاف کارڈ کی سو فیصد سہولت فراہم کی جارہی ہے، غربت کے خاتمے اور قبائلی نوجوانوں کو اُن کے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے انصاف روزگار سکیم کے تحت بلاسود قرضے دیئے جارہے ہیں۔

اُنہوں نے ضلع خیبر خصوصاً باڑہ اور تیراہ کیلئے ترقیاتی پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ باڑہ اور تیراہ کیلئے مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں گے، اس کے علاوہ پانی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے باڑہ کس ڈیم سمیت دیگر مجوزہ منصوبوں کو بھی خصوصی توجہ دی جائے گی، تیراہ ہسپتال اور تحصیل عمارت آئندہ سال جون تک مکمل کرلی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکولوں اور ہسپتالوں میں افرادی قوت پورا کرنے کیلئے انتظامات کئے جارہے ہیں، قبائلی اضلاع کے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ منظور کیا گیا ہے، یہ تمام وسائل قبائلی عوام کا حق ہے جن کے ثمرات اُن کو ضرور ملیں گے۔

وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ تیراہ بازار میں تاجروں کو نقصانات کا معاوضہ دینے اور شہداء پیکج کی فراہمی یقینی بنانے کے حوالے سے مسائل حل کئے جائیں گے، ککی خیل قوم کی آباد کاری کیلئے بھی تعاون کا یقین دلایا  اور تیراہ میں وسیع کھلی کچہری کا جلد انعقاد کر نے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی حکومت قبائلی عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

محمود خان نے کہا کہ ہم سب پختون اور پاکستانی ہیں، ہم نے مل کر اس علاقے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ نے متاثرین میں سٹیزن لاء معاوضے کے چیک بھی تقسیم کئے جبکہ وزیراعلیٰ کو آفریدی قبائل کی طرف سے سوئنیر بھی پیش کیا گیا۔