کرم، پانچ سالہ طالبہ کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

قبائلی ضلع کرم میں پانچ سالہ طالبہ سے زیادتی اور بعدازاں قتل کے خلاف طلبہ اور وکلاء برادری نے الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے اور ملوث عناصر کو کیفر کردار کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

پاراچنار عدالت کے سامنے وکلاء کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بار ایسوسی ایشن پاراچنار کے صدر محمود علی طوری، جنرل سیکرٹری عمر بنگش اور دیگر راہنماؤں نے پانج سالہ طالبہ گل سکینہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کو وحشی درندے قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے اصل قاتلوں تک پہنچنے کیلئے موثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

وکلاء برادری کا کہنا تھا کہ ضلع کرم میں فاٹا انضمام کے بعد وکلاء کا یہ پہلا احتجاج ہے اور وہ اس طرح کے ظلم اور بربریت پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے، اس قسم درندے سر عام پھانسی پر لٹکانے کے حقدار ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ضلع کرم کے سرحدی علاقے پیواڑ غنڈی خیل میں پانچ سالہ گل سکینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کردی گئی تھی۔

دوسری جانب گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے گل سکینہ کے قتل کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر معصوم گل سکینہ کو انصاف دلانے کے نعرے درج تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے طلبہ رہنماؤں نے گل سکینہ کے اندوہناک قتل اور زیادتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ قبائلیوں کی تاریخ میں اس قسم کا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا، اس درندے نے یہ اقدام کرکے قبائلی روایات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور اس کی سزا موت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

انہوں نے مقامی انتظامیہ، پولیس اور پاک فوج کے بریگیڈیئر نجف عباس سے اپیل کی کہ وہ معصوم گل سکینہ کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں اور سفاک قاتل کو فوری طور گرفتار کرکے عبرتناک سزا دیں۔