خودکش حملہ آور مہمانوں کے روپ میں اندر آیا، تفتیشی ٹیم

پولیس لائنز مسجد دھماکے کی تفتیشی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ خودکش حملہ آور مہمانوں کے روپ میں اندر آیا۔ پولیس لائنز اور اطراف کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کرلی گئیں۔

تفتیشی ٹیم کے مطابق حملہ آور کو پولیس لائنز سے سہولت ملنے کا عنصر تحقیقات میں شامل ہے۔ تفتیشی ٹیم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مختلف اوقات میں آنے والے چار مشتبہ افراد کی انٹری پر کام جاری ہے اور دیکھنا ہوگا کہ مشتبہ افراد سہولت کار تو نہیں تھے۔

خودکش حملہ آور کے اعضاء ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے آج ارسال کیے جائیں گے جس کے بعد پیشرفت رپورٹ سامنے آئے گی۔ دوسری جانب، دھماکے کے بعد پولیس لائنز کے داخلی راستوں پر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے جبکہ مرکزی دروازے پر اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں نے پولیس لائنز کے تمام اسٹاف کی پروفائلنگ بھی شروع کر دی ہے۔

خودکش دھماکے میں منہدم ہونے والی مسجد کا ملبہ ہٹانے کا کام تاحال شروع نہ ہوسکا۔ آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ بڑے آپریشن کے لیے پوری آبادی کے انخلا کی بات ہوگی، تو ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے البتہ انٹیلی جنس بیس آپریشنز ہونے چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پولیس لائنز میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا، خودکش حملہ آور کا سر اور کچھ اعضاء ملے ہیں، ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے سیمپلنگ فرانزک کے لیے بھجوا دی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے دھماکے کی وجوہات کا تعین کر رہے ہیں۔ آئی جی نے کہا کہ دہشت گردوں کا کنٹرول کسی علاقے پر اس طرح نہیں ہے جس طرح 10، 12 سال پہلے تھا۔