طالبان سے مذاکرات کے اچھے نتائج نہیں نکلے، بیرسٹر سیف کا اعتراف

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کے اچھے نتائج نہیں نکلے۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ اب طالبان سے مذاکرات کا نہ کوئی سینس بنتا ہے، نہ کوئی تُک ہے، اب بات کرنے کی ضرورت نہیں، اب تو جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی 417 ارب روپے کے پی کو دینے کی بات غلط ہے، خیبر پختونخوا کے اس وقت بھی وفاق پر 200 ارب روپے واجب الادا ہیں، سی ٹی ڈی کو اس سال ہم نے ایک ارب روپے دیئے ہیں، ہمیں اپنے بجٹ کے بنیادی اخراجات پورے کرنے میں بھی مشکلات تھیں، ہمیں درکار فنڈز نہیں، جو ہمارا حصہ بنتے ہیں نہیں دیئے گئے۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ سیف سٹی سے متعلق اجلاس ہوتے رہے، انتظامی لیپسز رہے، لیکن اصل وجہ وفاق سے فنڈنگ نہ ہونا تھی، جنگی صورتحال میں ایکشن بھی ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ مذاکرات بھی، ٹی ٹی پی نے نومبر میں سیز فائر ختم کرنے کا اعلان کیا، مذاکرات کی پالیسی پہلے بھی وفاق کی تھی، افغان حکومت کا بھی کردار تھا، اب افغان حکومت بھی اپنے مسائل کی وجہ سے متحرک کردار ادا نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے عمل میں دونوں طرف سے شرائط آتی ہیں، ہماری شرط تھی کہ آپ نے قانون کے تابع رہنا ہوگا، کالعدم ٹی ٹی پی سے ہماری دو ملاقاتیں ہوئی تھیں، مذاکرات میں ایک فائدہ ہوا، اس وقت سیز فائر تھا، کوئی دہشتگردی نہیں ہوئی، پچیدہ معاملہ سیٹل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ عمران خان نے مثبت انداز میں کہا تھا کہ 40 ہزار افراد میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی ہیں، کچھ لوگ چھوڑے گئے تھے، وہ ہم نے براہ راست نہیں چھوڑے تھے، ان میں کچھ وہ لوگ بھی رہا ہوئے تھے، جو امریکا سے لڑے تھے، ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا عمل دو اڑھائی ماہ سے زیادہ چلا ہی نہیں، ری سیٹل کا مطلب یہ نہیں کہ جس نے بندوق اٹھائی، ان کو ری سیٹل کر دیں.

انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان نے مثبت انداز میں کہا تھا کہ 40 ہزار افراد میں بچے بوڑھے اور خواتین بھی ہیں، ری سیٹل ہونے سے متعلق طریقہ کار بنایا جانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عدالتیں کیا معمولی جرائم میں رمضان اور عید پر قیدیوں کو نہیں رہا کرتیں، جنہوں نے غلط حرکتیں کی تھیں، ان کی ہم نے نشاندہی کی تھی اور کر رہے ہیں، امریکا نے بھی آخر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرکے سٹیلمنٹ کی۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ جنرل فیض حکومت کی پالیسی پر عمل کر رہے تھے، ان کی اپنی پالیسی نہیں تھی، جنرل فیض نے ان حالات میں جو مناسب سمجھا، وہ کر رہے تھے، جنرل فیض کی تو تحسین ہونی چاہیئے۔ دو اڑھائی ماہ جنگ بند رہی، اے این پی اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی مذاکرات ہوئے، ہم نے کوشش کی، لیکن مذاکرات کے نتائج اچھے نہیں ملے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی بنانے والے اب ہمارے پاس جو دیگر آپشنز ہیں، ان پر غور کریں گے، دہشتگردوں کا سویلین ٹارگٹ پر حملے کرنا کمزوری کی نشانی ہے۔