پشاور دھما: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش, لاہور سے میڈیکل ٹیمیں پشاور روانہ

پشاور پولیس لائنز میں دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے خودکش حملے کے شواہد ملے ہیں، دھماکے کے بعد مسجد کے پلر گرنے سے چھت گری جس سے نقصان زیادہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سکیورٹی لیپس کے حوالے سے اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی ہے، پولیس لائن گیٹ، فیملی کوارٹرز سائیڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیجزپر تحقیقات جاری ہیں۔

مسجد کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں اب تک امام مسجد اور اہلکاروں سمیت 92 افراد شہید جبکہ 48 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

دوسرے جانب نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے فوری طور پر پشاور مسجد دھماکے کے زخمیوں کے علاج میں مدد کیلئے لاہور سے میڈیکل ٹیمیں پشاور روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے پشاور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر عامر خان کیساتھ رابطہ کر کے ہر قسم کی امدادی معاونت کی پیش کش کی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی ہدایات پر زخمیوں کیلئے ادویات، خون اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ پروفیسر کامران خالد کی سرپرستی میں 13 رکنی ٹیم برن یونٹ جناح ہسپتال لاہور سے پشاور روانہ ہو رہی ہے۔

برن یونٹ کی ٹیم پشاور بم دھماکہ کے زخمیوں کے بہترعلاج و معالجہ کو یقینی بنائیں گے۔