ٹی ٹی پی کی پاکستان میں بحالی کے فیصلے کی تحقیقات کا مطالبہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے ٹی ٹی پی سے متعلق حکومت کی پالیسی کو پشاور سانحے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹی پی کی پاکستان میں بحالی کے فیصلے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ٹی ٹی پی سے جب جنگ بند ہوئی اور مذاکرات ہوئے تو پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

رضا ربانی نے 8 فرروی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کی پالیسی پر بحث کرنے اور سینیٹ کی پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب کابل میں طالبان آئے تو ٹی ٹی پی کے لوگوں کو اسلحہ کے ساتھ پاکستان آنے دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ گڈ طالبان ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت نہ عوام، نہ پارلیمان کو اعتماد میں لیا گیا، سینیٹ کہتی رہی کہ مشترکہ اجلاس بلائیں، ٹی ٹی پی مذاکرات پر اے این پی اور پیپلز پارٹی نے سخت تحفظات کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ طالبان کی ری سیٹلمنٹ کی پالیسی غلط ثابت ہوئی ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یہ سوچنا غلط تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی قانون کی پاسداری کرے گی، اس کے اثرات بالکل الٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب پالیسی تبدیل کی ہے، جو ہر قیمت پر کامیاب ہوگی، دہشت گردی کی کارروائیوں سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو سرحد پار سیفٹی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے ہم سے ہی نہیں ساری دنیا سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔