شاور دھماکہ، حملہ آور ایک، دو دن سے پولیس لائنز میں ہی رہ رہا تھا، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پشاور دھماکے کا حملہ آور ایک، دو دن سے پولیس لائنز میں ہی رہ رہا تھا۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ پشاور دھماکے کا سہولت کار پولیس لائنز کے اندر کا آدمی تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور ایک دو دن سے وہاں رہ رہا تھا، حملہ آور نے ریکی کی اور موقع دیکھ کر دھماکہ کیا۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ شہداء کی تعداد 47 ہوگئی جبکہ 125 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 20 سے 25 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی پشاور نے بتایا کہ ہزار سے ڈیڑھ ہزار افراد پولیس لائنز میں رہتے ہیں۔

خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سکیورٹی بریچ ہوئی ہے، پولیس کا خیال ہے کہ اندر کوئی شخص حملہ آور کے ساتھ رابطے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد نے خود کو پہلی صف میں دھماکے سے اڑایا، مساجد میں نمازیوں پر حملے تو بھارت اور فلسطین میں بھی نہیں ہوتے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ گذشتہ لہر میں کراچی دہشتگردوں کا بڑا ٹارگٹ تھا، سوات کے نہتے لوگوں نے ان دہشت گردوں کو مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ دور میں مذاکرات کی پالیسی شروع ہوئی تھی، اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، خیبر پختونخوا میں سرکاری ٹھیکوں میں یہ دہشت گرد حصہ وصول کرتے تھے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ میری اطلاعات ہیں کہ یہ دہشت گرد سرکاری ٹھیکوں میں گذشتہ حکومت کے وقت سے کمیشن لیتے ہیں، خیبر پختونخوا میں ٹول پلازوں پر انہوں نے قبضہ کیا۔

الیکشن التواء سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے نون لیگی رہنماء نے کہا کہ الیکشن ملتوی ہونے کی اب تک کوئی بات نہیں ہوئی۔ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے بارے میں خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک انصاف جو آئی ایم ایف معاہدہ کرکے گئی، عوام کے سامنے لانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے آخری ایک دو ماہ میں معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں، ہم نے شروع میں شرائط آہستہ آہستہ نافذ کرنا شروع کیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مفتاح کے جانے کے بعد ایک سوچ آئی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں، لیکن اس سوچ پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف آئی ایم ایف کا معاملہ نہیں، جو ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف کی کلیئرنس ضروری ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جب تک آئی ایم ایف کلیئرنس نہیں دے گا، مدد کرنے والے اس طرح مدد نہیں کرسکتے، جس طرح وہ مدد کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا شکنجہ سب جگہ ہے، یہ سارے بڑے بڑے ملک ان کی آرگنائزیشن کا حصہ ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ نواز شریف مہنگائی پر پریشان ہیں، گذشتہ تین، چار سال ملک پر بہت ظلم ہوا ہے، عمران خان نے جو خطرناک ہونے کی بات کہی تھی، وہ اب نظر آنا شروع ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو تحریری معاہدہ ہوا ہے، اس سے انحراف کیا جائے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی جائے، جس کی ہم میں اس وقت سکت نہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے، جو 4 سال معاشی طور پر مار پڑی ہے، ہم میں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی سکت نہیں۔

دسرے جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ طالبان کی ری سیٹلمنٹ کی پالیسی غلط ثابت ہوئی ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یہ سوچنا غلط تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی قانون کی پاسداری کرے گی، اس کے اثرات بالکل الٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب پالیسی تبدیل کی ہے، جو ہر قیمت پر کامیاب ہوگی، دہشت گردی کی کارروائیوں سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو سرحد پار سیفٹی حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے ہم سے ہی نہیں ساری دنیا سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔