پولیٹیکل نظام ختم ہوچکا پولس ڈپٹی کمشنر کے ماتحت نہیں۔ ہائیکورٹ

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

پشاورہائیکورٹ نے قرار دیاہے کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں پولیٹیکل نظام کا وجودختم ہوگیا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کو سمجھادیں کہ اب پولیس کا نظام ڈپٹی کمشنر کے ماتحت نہیں. جسٹس مسرت ہلالی نے یہ ریمارکس گزشتہ روز مہمند لیویز سے پولیس فورس میں تبدیل ہونے والے صوبیدار میجر کی برطرفی کے خلاف دائر رٹ کی سماعت کے دوران دئیے۔

دو رکنی بنچ جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پرمشتمل تھااس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گزار 2006ء میں مہمند لیویز میں بھرتی ہوا اور2016ء میں صوبیدار میجر کے عہدے پر ترقی پائی اور قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعدلیویزفورس کو پولیس میں تبدیل کر دیا گیا اوراس طرح ریٹائرمنٹ کاطریقہ کاربھی تبدیل کیاگیا۔

تاہم درخواست گزار کو ڈپٹی کمشنر نے ملازمت سے برطرف کر دیا ہے جس کااسے اختیار ہی نہیں کیونکہ لیویز فورس اب وفاق سے صوبائی حکومت کے ماتحت آگئی ہے اوردرخواست گزار ڈپٹی کمشنر کی بجائے ڈی پی او کے ماتحت ہے۔

درخواست گزار کو اعلی کارکردگی پر پولیس دربار میں آئی جی پی نے ڈی ایس پی بنایا اب ڈپٹی کمشنر مہمند نے درخواست گزار کو برطرف کردیا حالانکہ پولیس ان کے زیر انتظام نہیں لہذاڈی سی کے اقدام کوکالعدم قرار دیا جائے.

اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے برطرف ہونیوالے درخواست گزار کو عدالت میں طلب کرلیا ، تعلیمی قابلیت کے حوالے سے استفسار پران کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مڈل پاس ہے اب تو سکروٹنی کا عمل شروع ہوا ہے.

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل صوبائی حکومت کی جانب سے عدالت عالیہ میں پیش ہوئے جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی اضلاع میں پولٹیکل نظام ختم ہوا ہے انہیں سمجھا دیں کہ اب یہ آپ کے زیر انتظام نہیں ، جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ یہ سسٹم کو ناکام بنا رہے ہیں بعد ازاں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی استدعا پر کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔