کوہاٹ: تاندہ ڈیم میں مدرسے کے طلبہ کی کشتی الٹنے سے 10 بچے جاں بحق

صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں واقع تاندہ ڈیم میں سیر کے لیے آنے والے مدرسے کے طلبہ کی کشتی الٹنے سے کم از کم 10 بچے جاں بحق ہوگئے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق ترجمان ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ کوہاٹ کے تاندہ ڈیم میں سیر کے لیے آنے والے 30 افراد کی کشتی ڈوب گئی، کشتی میں زیادہ تعداد بچوں کی تھی۔

ریسکیو اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کرآپریشن کرتے ہوئے 17 بچوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جن میں سے 10 بچے جاں بحق ہوگئے جو کہ مدرسے کے طالب علم تھے۔

ڈپٹی کمشنر کوہاٹ فرقان اشرف نے بتایا کہ سیر کے لیے آئے ہوئے افراد کی کشتی ڈوب گئی جس میں 30 افراد سوار تھے۔

دوسری جانب پولیس اہلکار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو واقعے میں 10 بچے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

اس سے قبل ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال فیضی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ اب تک 6 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ 17 بچوں کو بچا لیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریسکیو کیے گئے 17 بچوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہاٹ منتقل کر دیا گیا، بوٹ میں 25 سے 30 لوگ سوار تھے۔

ترجمان 1122 نے بتایا کہ ڈونبے والے تمام بچوں کی عمریں 12 سے 20 سال کے درمیان تھیں، تمام بچے مدرسے کے طالب علم تھے جو ڈیم تفریح کے لیے ڈیم آئے تھے۔

![ریسکیو عملہ ڈیم میں ڈوبنے والے افراد کو تلاش کر رہا ہے— فوٹو: اے ایف پی1

بلال فیضی نے مزید کہا ریسکیو1122 کوہاٹ، پشاور، کرک اور ہنگو کی ٹیمیں تاندہ ڈیم سرچ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں، 7 ایمبولینسز، 4 کشتیاں، 2 ریکوری ویکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان میں کشتیاں ڈوبنے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں جہاں بوسیدہ اور صلاحیت سے زیادہ بوجھ والی بوٹس اپنا توازن کھو کر حادثے کا شکار ہوجاتی ہیں اور مسافر ڈوب جاتے ہیں۔

اسی طرح کا ایک حادثہ گزشتہ سال جولائی میں رحیم یار خان میں پیش آیا تھا جب دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کے المناک سانحے میں 26 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔