دہشت گرد پولیس کامورال گرانا چاہتے لیکن ہم قربانیاں کے لیے کھڑے ہیں

انسپیکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ دہشت گرد پولیس کامورال گرانا چاہتے ہیں حالیہ حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان پولیس کا ہوا، ہم قربانیاں دینگے اور جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کھڑے رہینگے۔

انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردانہ کاروائیاں جلد ختم ھو جائیں گی پولیس کو جدید اسلحہ ملنے کا سلسلہ شروع ہے کئی تھانوں میں تھرمل ڈوائس لگائے گئے ہیں .

خیبرپختون خوا پولیس کے سربراہ معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں 1 لاکھ 29 ہزار پولیس فورس اہلکار ہے صوبے کے 4 ہزار 500 پولیس اہلکار وی آئی پیز ڈیوٹیوں پرتعینات ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ صوبے سے باہر 110 پولیس اہلکار تعینات ہے جن میں 50 اہلکار لاہور کے زمان پارک جبکہ 60 اہلکار بنی گالا میں تعینات ہے۔

آئی جی پی کا کہنا تھا کہ بھتہ کالز میں سے99 فیصد کالیں افغانستان کےواٹس ایپ واٹس ایپ سے آتی ہیں، حکومت کو بتادیا ہے جلد افغانستان کیساتھ اس پر بات ہوگی۔

پشاور پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب میں آئی جی پی کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان ،ٹانک ، وزیرستان ، بنوں، لکی مروت میں دہشت گرد واقعات رونما ہوتے ہیں جس کےلئے پولیس فورس کی استعداد کار کو بڑھا رہےہیں۔

آئی جی پی کے مطابق دہشت گرد پولیس کی مورال گرانا چاہتے ہیں۔ دہشت گردانہ کاروائیاں بہت جلد ریورس ہوگی، بازاروں میں چہل پہل میں اضافہ ہوگا اور رواں سال امن کا سال ہوگا۔

معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا کہ پشاور میں اسٹریٹ کرائم میں یقینا اضافہ ہوا ہے۔45 لاکھ آبادی کا شہر ہے،سیف سٹی پراجیکٹ سے اسٹریٹ کرائم میں کمی واقع ہوگی جس کے لئے فیز ون پر کام کا آغاز کر رہے ہیں.

آئی جی پی کا کہنا تھا کہ موبائل اسنیچنگ، موٹرسائیکل، گاڑی چوری جیسے واقعات میں مقدمات درج نہ ہونے کی شکایات کے لئے سی سی پی او کے تحت ایسا سسٹم لایا جائے گا جہاں مقدمات اندراج میں مشکلات ختم ہو۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کیساتھ لانگ رینج سنائپر ، ترمل ویپن اسلحہ ہے۔ ایسے ہتھیاروں سے متعلق حکومت کو بتایا ہے۔ محکمہ پولیس نے ٹانک،ڈیرہ اسماعیل خان بنوں،لکی مروت پولیس کو دہشت گروں کے برابر کا اسلحہ پہنچایاہے ۔

آئی جی کے مطابق نگراں حکومت نے بریفنگ لی ہے وی آئی پیز سیکورٹی پر تعینات نفری میں ایسے سیکورٹی اہلکاروں کو واپس کرینگے جنہیں لوگوں نے نمود ونمائش کےلئے رکھی ہو۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو رات کے وقت نشانہ بنانے کی وجہ وہ اسلحہ ہے جو دہشت گردوں کے پاس ہے.

انھوں نے کہا کہ ملی و غیر ملکی سیاحوں نے خیبر پختونخوا کا رخ کر رہے ہیںجن کو پولیس سیکورٹی فراہم کررہی ہے. پشاور میں سیف سٹی پراجیکٹ کے پہلے فیز پر کام شروع کر رہے ہیں۔

عوام اطمینان رکھے عوام کے تحفظ کے لئے پولیس موجود ہے.

آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ وی آئی پیز کے پاس موجودنفری کی وجہ سے جنرل سیکیورٹی پر اثر پڑتا ہے،دہشت گرد پولیس کامورال گرانا چاہتے ہیں حالیہ حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان پولیس کا ہوا، ہم قربانیاں دینگے اور جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کھڑے رہینگے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سیاح ملک بھر سے تحفظ کےساتھ انجوائے کر رہے ہیں،کل تک کرائم ڈیٹا میڈیا کو دےدینگے.

آئی جی نے کہا کہ پولیس اہلکار اگر کسی کرائم میں ملوث ہے تو اس کو سزا ہر صورت ملی اور دینگے،موبائل اسنیچنگ،موٹرسائیکل، گاڑی چوری جیسے واقعات میں مقدمات درج نہ ہونے کی شکایات نہیںہیں، سی سی پی او کے تحت ایسا سسٹم لایا جائے گا