جنوبی وزیرستان : ایف سی اہلکار کی لاش برآمد، ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کرلی

صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں 6 جنوری کو اغوا ہونے والے ایف سی اہلکار کی قتل شدہ نعش برآمد ہوئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان میں ایف سی اہلکار کی لاش مل گئی ہے جس کی شناخت نیک محمد محسود کے نام سے ہوئی ہے۔

نیک محمد محسود 6 جنوری کو چھٹی پر اپنے گاؤں شکتوئی آیا تھا۔ گاؤں شکتوئی آمد پر 6 جنوری کو نیک محمد محسود کو دہشت گردوں نے اغوا کیا اور آج اس کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ واقعے کی نوعیت کیا ہے۔

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے نیک محمد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی۔ ترجمان محمد خراسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیک محمد محسود کو فوج کے لیے جاسوسی کے شبہہ میں قتل کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق نیک محمد کو صرف اسلئے قتل نہیں کیا گیا کہ یہ ایف سی اہلکار تھا بلکہ اسکو اس لئے قتل کیا گیا کہ یہ فوج اور ایف سی کے لئے جاسوسی کا کردار بھی ادا کر رہا تھا اور مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد اس کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔

اس دوران فوج اور پولیس افسران کے ساتھ مقامی مشران کے واسطہ طویل مذاکرات بھی کئے گئے لیکن مذاکرات کی ناکامی کے بعد اسکو قتل کیا گیا۔