معروف قانون دان لطیف آفریدی کا قاتل جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

عدالت نے معروف قانون دان لطیف آفریدی کے قتل کے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

پولیس نے ملزم عدنان آفریدی کو سخت سکیورٹی میں پشاور کی مقامی عدالت میں پیش کیا جہاں پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ بدر منیر سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف جرم کرلیا ہے اور اس نے قتل کی وجہ ذاتی دشمن بتائی ہے، مزید تفتیش کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

دسرے جانب عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزم کو دو روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

سینئر وکیل اور معروف قانون دان عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ کے قتل کے معاملے پر پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل نے سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت کی عدالتوں اور وکلا کوسکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی پر تشویش ہے، عدالتوں کے گرد سکیورٹی کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پاکستان بار کونسل نے کل ملک بھر کی عدالتوں میں ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کل ملک بھر کی عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔

پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لطیف آفریدی قانونی برادری کا قیمتی اثاثہ تھے، عبداللطیف آفریدی سپریم کورٹ بار کے صدر اور پاکستان بارکے وائس چیئرمین جیسے اہم عہدوں پر رہے، لطیف آفریدی قانون و آئین کی بالادستی، جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے لڑتے رہے۔

پارلیمنٹ وکلا کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرے: سپریم کورٹ بار

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عبدالطیف آفریدی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کل عدالتوں سے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور کہا کہ وکلا کے قتل پر مذمتی بیانات کے بجائے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ لطیف آفریدی کے قتل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے، پارلیمنٹ وکلا کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرے، وکلا کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومتوں سے بھی رابطہ کریں گے۔

پشاور ہائیکورٹ بار میں قتل ہونے والے سینئر وکیل ایڈووکیٹ عبداللطیف آفریدی پر فائرنگ کرنے والے ملزم کے حوالے سے پولیس کا بیان سامنے آیا ہے۔

جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی کینٹ محمد اظہر کا کہنا تھا لطیف آفریدی پر فائرنگ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے، لطیف آفریدی ایڈووکیٹ پر سیشن جج آفتاب اقبال اور ان کے خاندان کے 3 افراد کے قتل کا الزام تھا۔

ایس پی کینٹ محمد اظہر نے بتایا کہ لطیف آفریدی پر فائرنگ کرنے والا ملزم انسداد دہشت گردی کے مقتول جج آفتاب آفریدی کا بھانجا ہے، ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔

یاد رہے کہ پشاور ہائیکورٹ بار میں عدنان نامی ملزم نے لطیف آفریدی پر 6 گولیاں چلائیں، انہیں فوری طور پر لیڈی ریڈنگ اسپتال لے جایا گیا تاہم ڈاکٹرز نے تصدیق کی کہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ان کی موت واقع ہو چکی تھی۔