صدر مملکت کی سربند پولیس اسٹیشن پشاور پر دہشتگرد حملے کی مذمت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سربند پولیس اسٹیشن پشاور پر دہشتگرد حملے کی مذمت کی ہے۔ صدر نے پولیس افسر اور جوانوں کی شہادت پر دُکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل اور جڑ سے خاتمے تک دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی خدمات کو سلام پیش کرتی ہے۔

صدر مملکت نے شہداء کے لیے بلندی درجات اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

دسرے جانب پشاور کے تھانہ سربند پر دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی سردار حسین اور دو کانسٹیبلز کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

نماز جنازہ میں صوبائی وزیر شوکت علی یوسفزئی، گورنر خیبر پختونخوا غلام علی، آئی جی ایف سی، آئی جی خیبر پختونخوا پولیس سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پولیس لائنز میں نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا نے کہا کہ پولیس نے بہادری سے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کیا، شہید ڈی ایس پی نے گاڑی چوکی میں کھڑی کی اور عقبی راستے سے داخل ہورہے تھے کہ دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے۔

آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری نے کہا کہ بنوں، لکی مروت اور ڈی آئی خان میں اسنائپر ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا تھا، پشاور میں پہلی بار ہوا۔

معظم جاہ انصاری نے کہا کہ تھرمل سائٹس، نائٹ ویژن ڈرون ٹیکنالوجی کےلئے صوبائی حکومت نے خریداری کی منظوری دی ہے، سیف سٹی کے لئے جون سے قبل فیز ون شروع ہوجائے گا، شہر کے تمام تھانوں میں اپنی مدد آپ کے تحت کیمرے لگائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے پی پولیس نے تھرمل سائٹس خرید لی ہیں، رات کو حملے روکنے کے لئے نائٹ وژن گنز بھی لی ہیں، خیبر پختونخوا پولیس حملوں سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔