کوئٹہ، پاک ایران مشترکہ سرحدی تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس کا انعقاد

پاک ایران مشترکہ سرحدی تجارتی کمیٹی کا دسواں اجلاس بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اہداف کے حصول میں حائل رکاؤٹوں کو دور کرنے، دو طرفہ قانونی تجارت بڑھانے اور بارڈر معاہدے پر عمل درآمد پر اتفاق کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی کے دسویں اجلاس میں ایرانی وفد کی قیادت ڈپٹی گورنر سیستان-بلوچستان داؤد شہرکی نے کی، جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت کسٹمز چیف کلکٹرز عبدالقادر میمن نے کی۔

ایرانی قونصل جنرل کوئٹہ حسن درویش، صدر کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری حاجی عبداللہ اچکزئی، سینئر نائب صدر حاجی آغا گل خلجی اور دیگر تاجر رہنماؤں اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

داؤد شہرکی نے کہا کہ ایران، پاکستان کے ساتھ طے شدہ تجارتی اہداف کو حاصل کرنے اور تعاون کے ذریعے رکاؤٹوں کو دور کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مزید سرحدی منڈیاں کھولنے کے لئے تیار ہیں۔ کمیٹی کے 2010 کے اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

چیف کلکٹر کسٹمز عبدالقادر میمن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ اہداف کا حصول اور تجارت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے ترقی اور تجارت بڑھانے کے لئے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

حاجی عبداللہ اچکزئی نے کہا کہ کاروباری افراد اور صنعتکار پاکستان کے شہر کوئٹہ اور ایران کے شہر زاہدان کے درمیان براہ راست پروازوں کی سہولت کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دونوں ممالک کے درمیان برابری کی بنیاد پر آزاد باہمی تجارت چاہتے ہیں۔ حاجی عبداللہ اچکزئی نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کاروبار اور تجارت کو بڑھانے کے لئے مزید ٹھوس کوششیں کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے تاجر برادری کے لئے تفتان میں پاک ایران بارڈر پر علیحدہ گیٹ قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ انہیں اپنے سامان کی نقل و حمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔