افغانستان کیساتھ اچھے تجارتی اور سفارتی تعلقات میں خطے کی بہتری ہے، پروفیسر محمد ابراہیم

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ حکومت ارندو بارڈر سے لے کر چمن بارڈر تک قبائل اور افغان عوام کو سہولیات فراہم کرے۔ تمام سرحدوں کو عام افراد کی آمد و رفت اور تجارتی اشیاء کی نقل و حرکت کے لیے کھولا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بارڈرز پر موجود امیگریشن عملے کا رویہ درست کیا جائے۔ دونوں اطراف امن و امان کا استحکام آزاد نقل و حمل سے مشروط ہے جبکہ افغانستان کے ساتھ اچھے تجارتی اور سفارتی تعلقات میں خطے کی بہتری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرحدوں پر کشیدگی سے نفرتیں جنم لیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور سے جاری بیان میں کیا۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، قبائلی اور افغان تاجران کے لیے مشکلات پیدا کرنا پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے نقصاندہ ہیں۔ حکومت تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تجارت کے شعبہ اور نقل و حرکت کے معاملے میں لوگوں کو آسانیاں فراہم نہیں کی جائیں گی تب تک یہاں امن کا قیام مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی برادر اسلامی ملک ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف لوگوں کی رشتے داریاں، غمی خوشی مشترکہ ہے۔ لیکن حکومت انہیں بے جا تنگ کررہی ہے۔ یہ سلسلہ بند کیا جائے۔