قبائلی علاقوں میں ریڈیو نشریات کا آغاز

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ افغانستان سے منفی پروپیگنڈہ کو غیر موثر کرنے کے لیے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے تعاون سے ریڈیو نشریات کا آغاز کریں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول میں وزارت اطلاعات و نشریات، فوج کے میڈیا ونگ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘ریڈیو پاکستان نہ صرف ہمارا قومی نشریاتی ادارہ ہے بلکہ اس کا قومی سلامتی کے ساتھ خصوصی تعلق ہے اور کشمیر کی صورتحال نے ایک مرتبہ پھر ریڈیو کی اہمیت کو اجاگر کردیا ہے‘۔

دوران اجلاس کمیٹی کے چیئرمین فیصل جاوید خان نے کہا کہ ریڈیو پاکستان، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے پورے راستے کے لیے ایک معلوماتی پلیٹ فارم ثابت ہوسکتا ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکومت قومی بیانیے کو فروغ دینے اور سرحد پار سے ہونے والے منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں ٹرانسمیٹر لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے‘۔

نہوں نے افغان صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 50 سے زیادہ ریڈیو اسٹیشنز کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں جو پاکستان کی سرحد کے قریب ہی چلیں گے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ ’ہمیں اپنے قومی بیانیے کو پھیلانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے اور وزارت اطلاعات آئی ایس پی آر کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ ہمارے پیغامات پھیل سکیں اور افغان پروپیگنڈے کا مقابلہ کرسکیں۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ان کے بورڈ کو ضم کردیا جائے۔