جنوبی وزیرستان میں دہشتگردی، وانا میں 7 روز سے جاری دھرنا ختم

صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں سات روز سے جاری دھرنا ختم کردیا گیا، مظاہرین اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب کامیاب ہوگئے۔

ڈپٹی کشمنر اور ضلعی پولیس افسر نے مطالبات پر عمل درآمد کروانے کی یقین دہانی کرادی جس پر مظاہرین نے دھرنا اور سڑکیں کھولنے کا اعلان کردیا۔

اولسی پاسون کے بدامنی کے خلاف 7 روز سے جاری دھرنے میں شامل مظاہرین سے ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او مذاکرات کئے۔ ڈی پی او کا کہنا تھا کہ پولیس کےساتھ ایف سی تعینات ہوگی، تھانہ راغزائی تعمیر کیا جائے گا۔

حکام نے یقین دہانی کرائی کہ حکومتی رٹ بحالی پر کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، تجارتی راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔

وانا میں دہشتگردی، حکومت کے سامنے 10 مطالبات رکھ دیے گئے

خیبرپختونخواہ میں جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں قبائلی علاقے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ گزشتہ سال صوبے کے کئی اضلاع میں ہونے والے پُرامن مظاہروں کے سلسلے کا حصہ ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دہشت گردی کے خلاف مزاحمت پر وانا کے عوام کی حمایت کرتے ہوئے ان کی کامیابی کی خواہش ظاہرکی۔

وزیرستان امن اویسی پسون (وزیرستان امن عوامی تحریک) کے تحت ہونے والے ان مظاہروں میں شرکت کے لیے مختلف علاقوں سے گھڑسوار قافلے وانا شہر پہنچے۔

یہ مظاہرہ رستم بازار، وانا سے شروع ہوکر امن چوک پرجاری رہا۔ مالکان نے احتجاجی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لیے دکانیں بند کر دی تھیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں امن برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مظاہرے میں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

پی ٹی آئی، اے این پی، جماعت اسلامی، جے یو آئی این ڈی ایم، پی ٹی ایم، پشتونخوا میپ، پیپلز پارٹی، مقامی عمائدین (قبائلی عمائدین) اور پشتون تحفظ موومنٹ کے منظور پشتین سمیت متعدد سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنما بھی اس میں شریک تھے۔

مظاہرین نے احتجاجاً وانا – ڈیرہ اسماعیل خان سینٹرل ہائی وے کو بند کر دیا ۔ احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیرگردش ہیں جن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دیکھی جاسکتی ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ مظاہرین ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔

واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے جون میں حکومت کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی کو منسوخ کرنے کے بعد سے پولیس اہلکاروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کالعدم تنظیم، جس کی موجودگی جنگ بندی کے خاتمے سے کئی ماہ قبل محسوس کی گئی تھی، نے جنگجوؤں کو ملک بھر میں حملے کرنے کا حکم دیا تھا۔

مطالبات کیا ہیں؟ – منتظمین نے حکومت کے سامنے درج ذیل 10 مطالبات رکھے ہیں:

اگر پولیس کو سرچ آپریشن کرنا ہو یا مطلوب افراد کے خلاف کسی بھی جگہ پرکارروائی کرنا ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پولیس کو ایف سی یا فوج کی ضرورت ہو تو وہ پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 126 (امن برقراررکھنے کے لیے اضافی پولیس کی ملازمت) کے تحت مدد لے سکتی ہے۔

1973 ء کے آئین کی تمام دفعات سابقہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) پر لاگو تھیں لہذا آئین اور قانون کے علاوہ ”امن کمیٹی، قومی فوج یا 2007 ء کا معاہدہ“ ان کے لئے قابل قبول نہیں تھا۔

جنوبی وزیرستان میں امن ریاست کی رٹ سے مشروط ہے اور اس کے لیے علیحدہ ڈی پی او، ڈی سی، ججز اورتمام لائن محکموں کا وانا تبادلہ کیا جائے۔

چند روز قبل اغوا ہونے والے تاجر جمشید وزیر کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اسپن، اعظم ورسک، شیکائی، انگوراڈا، زرملان اور راگزئی تھانوں میں واقع چھوٹے بڑے بازاروں میں پولیس چوکیاں قائم کی جائیں۔ پولیس کو قانونی اختیارات اور مراعات دی جائیں۔

لیویز کی بند نوکریاں بحال کی جائیں اور موجودہ پولیس فورس کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

اس کے علاوہ تھانوں ، پولیس چوکیوں ، اور گشت کے دوران پولیس کی حفاظت کیلئے ایف سی کو ہنگامی بنیادوں پر تعینات کیا جائے۔

رنگین شیشے والی گاڑیوں (سرکاری/غیر سرکاری عناصر کی) پر بلا امتیاز پابندی عائد کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے۔

منشیات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور ہر قسم کی مسلح تنظیموں اور شرپسندوں پر پابندی عائد کی جائے۔

انگور اڈا کے مقام پر پاک افغان سرحد پرتجارتی رکاوٹیں ختم کی جائیں اور پاکستانی قومی شناختی کارڈ رکھنے والوں کو گیٹ سے داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج دھرنے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

’امن میں مقامی لوگوں کا کرداراہم ہے‘

وانا کے اسسٹنٹ کمشنر یاسر سلمان کنڈی نے آج نیوز کو بتایا کہ، ’مظاہرین کے زیادہ تر مطالبات پورے کر لیے گئے ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ضرورت پڑی ایف سی کو پولیس کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی بہت اہم رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز وانا میں سیکیورٹی آپریشن میں ایک اہم کمانڈر سمیت 11 دہشت گرد مارے گئے تھے۔

یاسرسلمان کنڈی نے کہا کہ علاقے میں گشت اور پولیس کی موجودگی کے مطالبے کو بھی ممکن بنایا گیا ہے انتظامیہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر امن برقرار رکھنے میں مصروف ہے۔

اس سلسے میں مقامی افراد کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی رہنماؤں کے توسط سے مظاہرین کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ جلد ہی مظاہرین احتجاج ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔