خیبر پختونخوا شدت پسندی اور دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہے، محمود خان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا شدت پسندی اور دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ ہے، جہاں 30 لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ 75 فیصد کاروبار بند ہوچکے تھے۔

منگل کے روز اسلام آباد میں دہشت گردی کے بارے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان کا کہنا تھا کہ سابق فاٹا دہشت گردی سے بری طرح متاثرہوا، ہم نے وہاں پر زیر و سے سٹارٹ لیا کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ادارے تباہ ہو چکے تھے.

انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر تباہ حال تھا ، ہم نے حکومت کے پہلے ڈیڑھ سال ضم اضلاع کی ترقی پر خصوصی توجہ دی اور کم سے کم وقت میں صوبائی محکموں کی ضم اضلاع تک توسیع کو یقینی بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ہم نے بے شمار قربانیاں دیں عمران خان کے دور حکومت میں امن تھا بارڈرز کھلے تھے، کاروباری سرگرمیاں جاری تھیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق رات کے اندھیرے میں رجیم چینج آپریشن کیا گیا اور پھر امپورٹڈ سرکار کے آنے کے بعد ابتک 376 دہشتگرد حملے کئے جا چکے ہیں۔ اب دوبارہ بدامنی کو پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ محمود خان نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ بدامنی کو پھیلانا، کیا قبائلی اضلاع کے فنڈز روکنا اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں نہ بلانا رجیم چینج سازش کا حصہ تو نہیں ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کی ترقی امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے، قبائلی اضلاع اور خیبر پختونخوا میں بدامنی کے اثرات پورے ملک پر ہونگے۔ اگر ہم واقعی مخلص ہیں تو ہمیں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب مجھے حکومت ملی تو سابقہ فاٹا انضمام ایک بڑا چیلنج تھا جسے ہم نے خوش اسلوبی سے مکمل کیا۔ 29 ہزار لیویز اور خاصہ داروں کو پولیس میں ضم کیا ۔

ضم اضلاع کیلئے خصوصی قانون سازی کی ، وہاں پر پولیس سٹیشنز بنانے شروع کئے اور عدالتی نظام کو توسیع دی ۔ضم اضلاع میں جرگہ سسٹم کی افادیت کو مدنظر رکھ کر وہاں پر الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کا نظام متعارف کرایاتاکہ جو لوگ تھانہ اور کچہری نہیں جانا چاہتے وہ اے ڈی آر کے ذریعے اپنے مسائل حل کرائیں۔

محمود خان نے کہاکہ ہم نے ضم اضلاع کو بندوبستی اضلاع کے برابر لانے کیلئے تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبہ جات میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی اور ہماری اس محنت کی بدولت آج ضم اضلاع میں ایک ڈھانچہ بن چکا ہے جبکہ ان اضلاع میں بہتر انتظام و انصرام کو یقینی بنانے کیلئے جنوبی وزیرستان کو دو اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ امپورٹڈ حکومت نے آتے ہی ضم اضلاع کے فنڈز روک دیئے اور اب خیبرپختونخوا حکومت قبائلی اضلاع کیلئے صحت کارڈ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے پیسے صوبائی خزانے سے دے رہی ہے ۔ سالانہ بجٹ میں ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 55 ارب روپے رکھے گئے ہیں لیکن اب تک صرف پانچ ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ محمود خان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور حکومت میں ضم اضلاع کا ترقیاتی پورٹ فولیو 24 ارب روپے سے بڑھاکر 60 ارب روپے کیا گیا۔

محمود خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیررازم کو ٹوارازم سے شکست دینے کی حکمت عملی اختیار کی اور صوبے کے سافٹ امیج کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کرنے کیلئے سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ۔

گزشتہ چار سالوں کے دوران 11 اکنامک زونز قائم کئے گئے جن میں ایک سپیشل اکنامک زون بھی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے کیلئے موٹرویز اور دیگر سڑکوں کا جال بچھانا شروع کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق فاٹا یعنی ضم اضلاع افغانستان اور وسطی ایشاء کیلئے ایک گیٹ وے کی حیثیت رکھتے ہے۔ اگر یہ خطہ مستحکم ہو گا تو پختونخوا اور پورا ملک مستحکم ہو گا۔

اُنہوں نے کہاکہ صوبے میں قیام امن کیلئے خیبرپختونخوا پولیس اور دیگر اداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں جو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ جلی حروف سے لکھی جائیں گی۔