اشیا ئے خوردنی کے مقررہ نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیرصدارت اہم اجلاس میں صوبے میں پرائس کنٹرول طریقہ کار اور مختلف اضلاع میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے اشیا ئے خوردونوش کے مقرر شدہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ تمام ڈپٹی کمشنرز قیمتوں کے تعین کیلئے باقاعدگی سے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی میٹنگ بلایا کریں۔

انہوں نے شعبہ زراعت کے مارکیٹ ایکٹ اور مارکیٹ کمیٹی کو تمام بڑے اضلاع تک توسیع دینے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ اضلاع کی سطح پر مارکیٹ ایکٹ اور کمیٹیز کو فعال بنانے سے شعبہ زراعت اور عوام دونوں کو فائدہ ہوگا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، صوبائی محکموں ریلیف، زراعت اور خوراک کے انتظامی سیکرٹریز، پی ایم آر یو کے نمائندے اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو صوبے میں ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف گذشتہ تین ماہ کی کاروائی کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ روزانہ کی بنیادوں پر عوام کے زیراستعمال اہم اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومت کی ترجیحات اور ہدایات کی روشنی میں ہنگامی اقدامات کئے گئے ہیں اور واضح پیش رفت یقینی بنائی گئی ہے۔

رواں ماہ کی یکم تاریخ سے 17 تاریخ تک صوبہ بھر میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف اقدامات کے تحت 1692یونٹس کا معائنہ کیا گیا، 3.99 ملین روپے جرمانہ کیا گیا

۔مذکورہ سترہ دنوں کے دوران 89ایف آئی آرز درج کی گئیں، 50 دکانوں کو بند کیا گیا اور 453 عناصر کو وارننگ دی گئی۔ملاوٹ کے خلاف کاروائی کے دوران رواں ماہ کے دوران بیکری کے 4155 آئٹم تلف کئے گئے۔

اسی طرح مشروبات کے 4575، چپس وغیرہ کے 9394، ڈیری مصنوعات کے 315 آئٹمز، جام/ اچار کے 20980، گرین ٹی کے تین ہزار، دودھ کے 15863، پولٹری کے ایک ہزار اور مصالحوں کے 5240 آئٹمز تلف کئے گئے۔ مزید براں آٹے کے 140، گڑ کے 1780، گوشت کے 2528 اور نان فوڈ کلر کے 3631 آئٹمز تلف کئے گئے ہیں