پشاور کے علما نے دہشت گرد کارروائیوں کیخلاف فتویٰ جاری کر دیا

ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اصافہ ہو رہا ہے وہی خیبرپختونخوا کے علما نے دہشت گردوں اور دہشت گردی کی کارروئیوں کے خلاف فتویٰ جاری کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا۔

ڈان ڈاٹ کام کو موصول 14 صفحات پر مشتمل فتویٰ پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے 16 مذہبی اسکالرز نے دستخط کیے ہیں جن میں مولانا قاری احسان الحق، مفتی سبحان اللہ جان، ڈاکٹر مولانا عطا الرحمٰن، مولانا حسین احمد، مولانا ڈاکٹر عبدالناصر، مفتی مختار اللہ حقانی، مولانا طیب قریشی، مولانا سلمان الحق حقانی، مولانا رحمت اللہ قادری، مولانا عمر بن عبدالعزیز، علامہ عابد حسین شاکری، مفتی معراج الدین سرکانی، مفتی رضا محمد حقانی، مفتی خالد عثمانی، مفتی خالد عثمانی ، مولانا شیخ عبدالعزیز اور مولانا عبدالکریم شامل ہیں۔

دارالعلوم سرحد پشاور، جامعہ دارالعلوم حقانیہ، تنظیم المدارس، وفاق المدارس العربیہ، رابط المدارس، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعہ، جامعہ تعلیم القران، علما کونسل خیبر پختوانوا نے دہشت گردی کی کارروائیوں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

خیبرپختونخوا کے چیف خطیب مولانا طیب قریشی نے کہا علما نے جہاد سے متعلق کچھ سوالات کے جوابات دینے کے لیے فتویٰ جاری کیا ہے۔

ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’حال ہی میں چند نام نہاد علما نے اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی اس لیے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ فتویٰ جاری کریں۔

فتویٰ میں علما نے اسلامی ریاست میں افراتفری اور فساد پھیلانے کی مذمت کی۔

علما نے حکام کے خلاف اعلان جنگ اور ہتھیار اٹھانے والوں کو سزا کے مستحق مجرم قرار دے دیا۔

فتویٰ میں کہا گیا کہ کسی ایک شخص کو جہاد کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور جہاد کا اعلان صرف اسلامی ریاست کا سربراہ ہی کر سکتا ہے۔

فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اگر کوئی پولیس اہلکار یا سپاہی جاں بحق ہوتا ہے تو وہ شہید ہے اور اس کی شہادت میں کوئی شک نہیں ہے۔

خیال رہے کہ ایسی پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب ملک بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے۔

خیال رہے کہ 28 نومبر 2022 کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی کے معاہدےکو منسوخ کر دیا تھا اور اپنے عسکریت پسندوں کو ملک بھر میں حملے کرنے کی ہدایت دے دی تھی جس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد کارروائیاں کی گئی ہیں جو کو افغانستان میں مقیم کالعدم ٹی ٹی پی قیادت کی ہدایت پر عمل میں لائی گئی ہیں۔

نظریاتی طور پر افغان طالبان سے منسلک ٹی ٹی پی نے گزشتہ برس ملک میں ایک سو سے زائد حملے کیے ہیں جن میں سے زیادہ تر اگست کے بعد ہوئے کیونکہ ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں خلل پیدا ہوا۔