دہشتگرد اور انتہاء پسند پاکستان کے دشمن ہیں، ان سے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کو لازمی قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی مخالفت کردی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں، جلدی یا تاخیر دونوں کی مخالفت کریں گے، ہم چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں اور ادارے مل کر کام کریں، پاکستان میں مائی وے اور ہائی وے کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے.

انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کے بیانیے کی مخالفت کرتے ہیں، سابق آرمی چیف کے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں، ملک میں نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے غیر سیاسی رہنے کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں، چاہتے ہیں کہ ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں، اٹھارویں ترمیم کے خلاف پروپیگنڈے کو ناکام بنایا گیا، پارلیمان نے پہلی بار وزیراعظم کو گھر بھیجا، جس میں پیپلز پارٹی کا اہم کردار رہا ہے۔

کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں فرحت اللہ بابر، شیری رحمان سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں سب سے زیادہ خطرہ تقسیم کی سیاست سے محسوس ہو رہا ہے، مجھے نہیں کھیلنے دو گے تو کسی کو نہیں کھیلنے دوں گا، پیپلز پارٹی کو تقسیم کی سیاست سے نفرت ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک کوڈ آف کنڈکٹ پر دستخط چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان میں سب مسائل رکھیں اور اس کے ذریعے حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ نفرت کو ہر جگہ پہنچایا جا رہا ہے، ساری جہموری قوتوں کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ بنانا ضروری ہے اور پھر اس میں رہتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں اپنی مہم چلائیں.

اجلاس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ اس ملک کو چلانا اور ترقی دلانا مقصد ہے تو کوڈ آف کنڈکٹ بنانا پڑے گا، پیپلز پارٹی اس سلسلے میں تمام جماعتوں سے رابطہ کرے گی، ہم سمجھتے ہیں کہ دہشتگرد اور انتہاء پسند پاکستان کے دشمن ہیں۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ ہمیں دہشت گردوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا ہوگا، جو ایک مجرم کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسپیکر راجہ پرویز اشرف سے مطالبہ ہے کہ وہ پارلیمان میں قومی سلامتی کا اجلاس بلائیں اور پھر ہم بیٹھ کر ایک لائحہ عمل طے کریں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہم جلد انتخابات کے مخالف ہیں، البتہ انتخابات اگر مقررہ وقت پر نہ ہوئے تو پھر ہم کھل کر اس کی مخالفت کریں گے اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے ذہن میں یہ سوچ ہے تو وہ اس کو نکال دے، کیونکہ پی پی ہر فورم پر اس کی کھل کر مخالفت کرے گی۔

انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے دی جانے والی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں اور آئین کی مضبوطی کیلئے اپنا کام کرتے رہیں گے، ایسے کسی بھی شخص کو انسان نہیں سمجھتا، جس نے ہمارے بچوں کو قتل کیا۔