دہشتگردوں کی ٹوٹی کمر پھر سیدھی کیسے ہوگئی؟ پروفیسر محمد ابراہیم

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ ملک کے سارے فیصلے ماورائے آئین ہورہے ہیں، آئین کو کوئی گھاس تک ڈالنے کو تیار نہیں۔ بار بار کہا گیا کہ ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور ان کا صفایا کردیا ہے لیکن وہ کمر پھر سیدھی ہوتی اور لوگ کھڑے ہوتے رہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے زیر اہتمام مفتی محمود مرکز پشاور میں آل پارٹیز امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ جنرل مشرف کی پالیسیوں سے اختلاف پر قاضی حسین احمد مرحوم اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کو نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2004ء میں وانا سے آپریشن کا آغاز ہوا اور یہ سلسلہ شمالی وزیرستان سے ہوتا ہوا ملاکنڈ ڈویژن اور خیبر ایجنسی تک پھیل گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں تبدیل ہوتی رہیں لیکن پرویز مشرف کی پالیسیاں تبدیل نہ ہوئیں، آرمی پبلک سکول کے بچوں کے والدین آج بھی قاتلوں کا پتہ پوچھتے پھر رہے ہیں، واقعے کی تحقیقات ہوئیں لیکن وہ بھی نامکمل ثابت ہوئیں۔ پچیسویں ترمیم جس کے ذریعے سابقہ فاٹا کا انضمام ہوا، میں خامیاں موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 26ویں ترمیم میں کچھ ازالہ ہوگیا تھا لیکن قومی اسمبلی نے تو اسے پاس کرلیاالبتہ سینیٹ نے اس پاس نہیں کیا۔ سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کو اپنا اپنا کام کرنا چاہیے، وسائل پر قبضے کے حوالے سے بھی رائے عامہ پائی جاتی ہے۔لوگوں کا خیال ہے کہ وسائل پر قبضے کے لیے آپریشنز کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔ا

انہوں نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ گر ایسی صورتحال ہے تو یہ انتہائی خطرناک اور سنجیدہ معاملہ ہے، وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے عوام کا مطالبہ ہے کہ سب سے پہلے انہیں گیس مہیا کی جائے، اس کے بعد حکومت جہاں چاہتی ہے لے جائے۔

انہوں نے سوال کیا کہ یہ بات واضح کی جائے کہ سی ٹی ڈی سول ادارہ ہے یا فوجی ادارہ ہے کیونکہ سی ٹی ڈی کا مرکز شہر سے دور تھانہ منڈان میں تھا، وہ کینٹ میں کیسے منتقل ہوگیا۔

سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں خدشات اور سوالات ہیں، ان کی وضاحت ہونی چاہیے۔ افغانستان اور پاکستان کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہم ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔

سرحدوں پر افغانوں کے ساتھ ہمارے امیگریشن عملے کے ذلت آمیز رویے پر بھی بات ہونی چاہیے۔ ہماری مغربی سرحد مشرقی سرحد کی طرح نہیں ہے، مغربی سرحد پر خاردار باڑ لگانا دانشمندی کی بات نہیں ہے۔

سرحدوں پر عوام کا راستہ بند کیا جارہا ہے جبکہ دہشت گرد آ جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی راستوں کو ہر قسم کی آمد ورفت کے لیے کھول دیا جائے۔