افغانستان یقین دہانیاں اور کیے گئے وعدے پورے کرے، پاکستانی وزارت خارجہ

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان حکام کے ساتھ بہتر بارڈر منیجمنٹ، سفارت کاروں کی سیکیورٹی کو اپ گریڈ کرنے اور دہشت گردی روکنے سمیت تمام مسائل پر بات چیت کر رہے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ افغانستان نے کچھ یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے کہ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن، خوش حال اور مستحکم افغانستان دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ افغانستان خطے میں تجارتی اور توانائی کے رابطے کے لیے راستے کے طور پر ابھرے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اس وقت تک مکمل معمول پر نہیں آسکتے جب تک تنازعات بالخصوص مقبوضہ جموں اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ بھارت میں ہندتوا کی قوم پرست حکومت علاقائی بدمعاشی کے طور پر کام کر رہی ہے اور دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی پیش رفت میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ظلم اور مقبوضہ جموں اور کشمیر کے لوگوں کا معاملہ پاکستان کے لیے سب سے تشویش ناک بات ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازع جموں اور کشمیر کے تصفیے کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں اور کشمیر کے لوگوں کے خلاف ظلم بند کرے اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی معاونت کرنا بند کرے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور امن میں دلچسپی رکھتا ہے مگر یہ بھارتی حکام پر ہے کہ تعلقات میں بہتری کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔