پاکستان میں سعودی شہریوں پر ممکنہ حملے کا خطرہ، سفارت خانے کا الرٹ جاری

اسلام آباد میں سعودی عرب سفارت خانے کی جانب سے اپنے شہریوں کو سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر احتیاط برتیں اور نقل و حرکت محدود رکھیں۔

سعودی عرب کے سفارت خانے کی جانب سے جاری الرٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سے پاکستان آنے والے اور یہاں موجود شہری احتیاط کریں اور ضرورت کے بغیر باہر نہ نکلیں۔

اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد کی سیکیورٹی اعلی سطح پر رکھی گئی ہے اور سعودی عرب کے شہری ضرورت پڑنے پر سفارت خانہ اور قونصل خانے سے رابطہ کریں۔

اس سے قبل امریکی سفارت خانے نے اپنے اسٹاف کو حملوں کے خدشے کے پیش نظر میریٹ ہوٹل جانے سے روک دیا تھا اور اسی طرح دیگر چند سفارت خانوں کی جانب سے بھی اپنے اسٹاف کو شہریوں کو اسلام آباد میں کچھ عرصے کے لیے خاص طور پر یکم جنوری تک اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اسلام آباد میں غیرملکی سفارت خانوں کی جانب سے اپنے شہریوں کو احتیاط کرنے کے الرٹ جمعے کو وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد جاری کیے گئے ہیں جہاں ایک پولیس اہلکار اور ٹیکسی ڈرائیور جان سے گئے تھے۔

اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹیڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 2014 کے بعد یہ پہلا خود کش حملہ تھا۔

یاد رہے کہ 2005 سے 2014 کے دوران 18 خود کش حملوں میں 165 افراد جاں بحق اور 600 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

مارچ 2014 میں آخری خود کش دھماکا اس وقت ہوا تھا جب دو حملہ آوروں نے سیکٹر ایف-8 میں جوڈیشل کمپلیکس پر خود کو اڑا دیا تھا۔ملک میں گزشتہ 22 برسوں میں 504 خود کش حملے ہوچکے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 6 ہزار 748 افراد جاں بحق اور 15 ہزار 111 زخمی ہوگئے تھے۔