دہشت گردی کا خطرہ : اسلام آباد میں 25 عارضی چیک پوسٹیں قائم کردی گئیں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر خصوصی سیکیورٹی پلان جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت شہر میں 25 عارضی چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں، جبکہ ملکی و غیر ملکی شہریوں کو اپنی شناختی دستاویزات ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے آفیشل ٹوئٹر پر جاری کیے گئے سیکیورٹی پلان کے مطابق ریڈ زون کے داخلی راستوں کی سیف سٹی کیمروں سے ریکارڈنگ کی جائے گی جبکہ میٹرو بس کے مسافروں کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی جائے گی۔

پولیس نے اسلام آباد کے شہریوں سمیت غیرملکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی شناختی دستاویزات ساتھ رکھیں۔شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گاڑیوں پر ایکسائز دفتر سے جاری شدہ نمبر پلیٹ استعمال کریں، غیر نمونہ نمبر پلیٹ اور غیر رجسٹرڈ شدہ گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ٹوئٹ میں مزید ہدایت کی گئی کہ کرایہ داروں اور ملازمین کا اندراج قریبی پولیس اسٹیشن یا خدمت مراکز پر کروائیں، جن افراد نے غیر رجسٹرڈ مقامی یا غیر ملکی ملازم رکھے ہوئے ہیں ان کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع 15 ہیلپ لائن پر حکام کو دیں۔

واضح رہے کہ یہ خصوصی سیکیورٹی پلان ایسے وقت میں وضع کیا گیا ہے جب تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد سے ملک میں حالیہ عرصے میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 23 دسمبر کو اسلام آباد کے آئی-10 سیکٹر میں خودکش دھماکے میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق اور 6 اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ یہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا تک محدود عسکریت پسندی کی حالیہ لہر کے آغاز کے بعد اسلام آباد میں دہشت گردی کا پہلا بڑا واقعہ تھا۔

دھماکے کے 2 روز بعد اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے سیکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا جس میں ممکنہ حملے کے خدشات کے پیشِ نظر اپنے عملے کو شہر کے میریٹ ہوٹل میں جانے سے منع کیا گیا تھا، اسی روز اسلام آباد پولیس نے دارالحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی تھی۔

مزید براں سعودی عرب، برطانیہ اور آسٹریلیا نے گزشتہ روز علیحدہ علیحدہ سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے پاکستان میں اپنے شہریوں سے نقل و حرکت محدود کرنے کی اپیل کی تھی۔