2023ء اس سال سے زیادہ گرم برس ثابت ہوسکتا ہے

برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اگلا سال مسلسل 10واں سال ہوگا جس میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل درجہ حرارت سے کم از کم ایک ڈگری سینٹی گریڈ بڑھے گا۔

ادارے کے مطابق 2023 میں اوسط عالمی درجہ حرارت میں 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ متوقع ہے۔ یہ درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے وقت (1900-1850) کے اوسط درجہ حرارت سے زیادہ ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ 2023 ممکنہ طور پر زمین کا گرم ترین سال ہوسکتا ہے۔ البتہ چھ سال قبل بنایا گیا ریکارڈ توڑنا شاید ممکن نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ 2016 میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل درجہ حرارت سے 1.28 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ جس کے بعد سے اس ہندسے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میٹ آفس کے محققین کے مطابق 2023 کے گرم ترین سال ہونے کی جزوی وجہ سرد لا نِینا موسمی اثرات کا نہ ہونا ہوگا۔ لانینا اثرات تب وقوع پزیر ہوتے ہیں جب خط استواء سے طاقتور ہوائیں مشرق سے مغرب کی سمت میں چلتی ہیں اور وسطی بحر الکاہل کے مشرقی خط استوا کے علاقے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت کم کرتی ہیں۔

برطانوی محکمہ موسمیات کے ڈاکٹر نِک ڈنسٹون کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سالوں میں عالمی درجہ حرارت طویل مدتی لا نِینا کے اثرات سے متاثر تھا۔

اگلے سال تین سال پر مشتمل اس موسمی ماڈل کا اختتام ہوگا جس سے ٹروپیکل بحر الکاہل میں گرم موسم کی واپسی ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موسمی ماڈل میں یہ تبدیلی 2023 میں عالمی درجہ حرارت کو 2022 سے ممکنہ طور پر زیادہ گرم کرے گا۔