جنوبی اضلاع میں صورتحال ٹھیک نہیں – وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان ںے صوبے کے جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ملبہ وفاقی حکومت پر ڈال دیا۔

وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے دن خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنا ہے، وفاقی حکومت لکیر کی فقیر ہے، کاروباری مراکز رات 8 بجے بند کرانے پر ہمارے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کورونا کی صورتحال اور توانائی بحران میں کاروبار رات 8 بجے بند کرانے کے فیصلے ہم نے کیے تھے، وفاقی حکومت ہمارے اقدامات پر گامزن ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا وفاق کی طرف سے ہمیں ہمارا حق نہیں مل رہا اور ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے، سابقہ فاٹا کے فنڈز بھی ہمیں نہیں مل رہے۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا بالخصوص جنوبی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے، سب کو پتہ ہے کہ رجیم چینج آپریشن کے بعد یہ ہونا تھا۔

دسرے جانب بنوں میں بم دھماکہ کے باعث تین شدت پسند ہلاک ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقہ منڈی جانی خیل میں بم دھماکہ ہوا، دھماکہ کی زد میں آنے سے ایک بچہ زخمی ہوگیا، جسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

ہلاک ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت عطاء اللہ کے نام سے ہوئی ہے، ذرائع کے مطابق ہلاک ہونیوالوں کا تعلق شدت پسند کمانڈر اسحاق اور کمانڈر اختر محمد عرف خلیلی کے گروپ سے بتایا جا رہا ہے۔

اسی طرح ایک اور واقعہ میں وزیرستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے معروف کھلاڑی محمد زار خان زخمی ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق وزیرستان ازمری تائی کوانڈو کلب کے ٹرینر محمد زار خان محسود پر گھر کے باہر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی، فائرنگ سے محمد زار خان زخمی ہوگئے، انہیں زخمی حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا.

ذرائع کے مطابق زار خان کو تین گولیاں لگی ہیں تاہم حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔