اپر کرم کے طوری قبیلے سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو پاڑہ چمکنی قبائل نے اغوا کرلیا

اپر کرم کے طوری قبیلے سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو پاڑہ چمکنی قبائل نے اغوا کرلیا، جس پر دونوں قبائل کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق وسطی کرم کے پاڑہ چمکنی قبائل نے طوری قبیلے کے پانچ افراد کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ واقعے کے بعد دونوں قبائل کے مابین فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا، جس میں خود کار اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے.

پاڑہ چمکنی قبائل کا کہنا ہے کہ معدنیات لے جانے والے ان کی گاڑیوں سے بغکی کے طوری قبائل ٹیکس کی وصولی کا تقاضا کررہے ہیں جس کے لئے وہ تیار نہیں جبکہ طوری قبائل کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ افراد کو بے گناہ اغواء کیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر ضلع کرم واصل خان خٹک کا کہنا ہے کہ جرگہ اور مذاکرات کے زریعے مسئلے کے حل کی کوشش کی جارہی ہے اور مغویوں کی بحفاظت بازیابی اور فریقین کے مابین فائر بندی کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر علاقے کے ڈی ایس پی پولیس اہلکاروں اور فورسز کے حکام کے ساتھ علاقے میں موجود ہیں اور پرامن طریقے سے مسئلے کافوری حل نکالنے کے کوششی کی جارہی ہے۔

دسرے جانب کرم کے گاؤں بغکی اور گنداؤ کے درمیان جنگ کی خبر آتے ہی انجمن حسینیہ کے اراکین عسکری قیادت کے ہمراہ گاؤں بغکی اور بادامہ پہنچے۔

اس موقع پر انجمن حسینیہ کے اراکین نے مقامی مشران کے ساتھ تصفیہ طلب مسائل پر طویل بات چیت کی اور جنگ بندی پر زور دیا۔

اراکین انجمن حسینیہ نے دونوں فریقین کو مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تاکید کی۔ دونوں فریقین کے مشران نے مذکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔ جلد دونوں فریقین مثبت اقدامات اٹھا کر جنگ بندی پر راضی ہو جائینگے۔