ٹی ٹی پی کیساتھ مذاکرات : دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے اقدامات پر زور

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کیساتھ حکومت کے مذاکرات عملی طور پر معطل ہوچکے ہیں، طویل عرصہ تک جاری رہنے والے بات چیت کے اس دور میں دہشتگردی کا سلسلہ بھی برقرار رہا۔

اس اہم معاملہ کے حوالے سے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کی جانب سے پشاور میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں، دانشوروں اور صحافیوں کے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔

اس بیٹھک میں متفقہ طور پر ملک میں جاری دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے اقدامات پر زور دیا گیا، تاہم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مختلف آراء آئیں۔

پروگرام میں جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، عوامی نیشنل پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک، صوبائی صدر جمعیت علمائے اسلام (س) مولانا یوسف شاہ، معروف صحافی محمد رسول داوڑ، چیئرمین آئی آر ایس ڈاکٹر محمد اقبال خلیل اور ممتاز کالم نگار عالمگیر آفریدی نے بھی خطاب کیا۔

پروفیسر محمد ابراہیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا کے اکثر و بیشتر مسائل بات چیت سے حل ہوئے ہیں.

انہوں نے دنیا اور خطے کے بڑے تنازعات کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت حقیقی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہونی چاہیئے، متاثرین کے درمیان نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مروجہ عسکریت پسندی کے معاملے میں بات چیت کے تمام دور متاثرین کے درمیان ہوئے ہیں، اصل کھلاڑیوں کے درمیان نہیں۔

انہوں نے 2014ء میں پارلیمنٹ کی منظوری سے ہونے والے مذاکرات کے عمل میں وہ بھی مذاکراتی کمیٹی کے رکن تھے، ان مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔

مذاکرات کے ایک ماہ بعد جون 2014ء میں شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور کئی دعوے کیے گئے کہ علاقے کو دہشتگردی سے پاک کر دیا گیا ہے، لیکن آج بھی فوجی دستوں کی موجودگی کے باوجود شمالی وزیرستان میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور قتل و غارت گری کا کھیل جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کھیل اب ختم ہونا چاہیئے، کیونکہ اس میں سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں نے اٹھایا ہے۔

اے این پی رہنماء سردار حسین بابک نے کہا کہ پختون اکثریتی سرزمین پر لاقانونیت کوئی سانحہ یا حادثہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر منصوبہ ہے، ہمسایہ ملک افغانستان میں آگ بجھانے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ آگ کو ہوا دے کر ایندھن دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے لگتا ہے کہ صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے.

انہوں نے صوبے کے مختلف حصوں میں بے گناہ شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ صوبائی حکومت ایک سازش کے تحت روپوش ہوگئی ہے، حالیہ حملوں کے متاثرین کے گھروں کا دورہ کرنے اور ان کے عزیزوں کی شہادت پر تعزیت کرنے کے لیے نہ تو وزیراعلیٰ اور نہ ہی کوئی وزیر موجود تھا۔

اے این پی کا بیانیہ کسی فرد، گروہ یا ادارے سے مخصوص نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں، ہم صرف پختون قوم کے کیس کی وکالت کرتے ہیں، ہم پختونوں کی سرزمین پر امن چاہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کی جنگ پختونوں پر مسلط کی گئی، جنگ میں صرف اے این پی ہی کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ہر پختون جو اپنے اپنے شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا تھا، کو قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا حسن جان، ڈاکٹر فاروق یا طاہر داوڑ کا تعلق اے این پی سے نہیں تھا، لیکن انہیں پختون آواز ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔

انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ امن کے بیانیے کو اپنی اولین ترجیح بنائیں، مقتدر حلقے قیام امن میں مخلص نہیں ہیں، میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر وہ پولیس کو مکمل اختیار دیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ دہشتگردی کو جلد ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

مزید یہ کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عام پختون عوام آگے آئیں اور امن کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔ ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو دعوت دیتے ہیں کہ آئیے امن کا سفید پرچم بلند کریں اور اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوشش کریں۔

جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنماء مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے، تمام مسائل بات چیت سے حل ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ ریاستی سطح سے متعلق ہے اور پاکستان اور افغانستان دونوں کی قیادت کو مل بیٹھ کر اس سنگین مسئلہ کا کوئی متفقہ حل نکالنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ بعض قوتوں نے پیدا کیا ہے اور صرف وہی اسے حل کرسکتی ہیں، خطے میں امن کی بحالی کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

چیئرمین آئی آر ایس ڈاکٹر اقبال خلیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد مختلف الخیال سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اس خطے کو درپیش بدامنی کے اس سنگین مسئلہ کا حل نکالنا ہے، امن سب کی ضرورت ہے اور اس سے ہماری نئی نسلوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے، لہٰذا ہم نے سیاسی اختلافات سے قطع نظر اس مسئلہ پر تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک چھت تلے جمع کرکے اس ناسور کیخلاف قوم کو ایک مشترکہ لائحہ عمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔