جنرل باجوہ نے امریکی ایماء پر رجیم چینج آپریشن کروانے کے الزام کو غلط قرار دیدیا، ذرائع

معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ جنرل باجوہ کے پاس عمران خان، سیاست میں ان کے عروج و زوال اور انہوں نے اپنی حکومت کیسے چلائی اس کے بارے میں بتانے کو بہت کچھ ہے۔

جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سابق آرمی چیف کچھ ضابطہ اخلاق کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی کے ان الزامات کا عوام میں جواب نہیں دے سکے لیکن اس بات پر اصرار کیا جاتا ہے کہ خان جو کچھ زیادہ تر باجوہ کے بارے میں کہتے ہیں وہ غلط ہے۔

باجوہ اب عمران خان کا فوکس ٹارگٹ ہیں جو اب نہ صرف باجوہ کو حکومت میں اپنی تمام ناکامیوں کی واحد وجہ سمجھتے ہیں بلکہ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ جنرل نے امریکی سازش کے تحت ان کی حکومت کو ہٹایا تھا۔

اگرچہ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جو نیب کو کنٹرول کر رہے تھے اور سیاستدانوں کی گرفتاری اور رہائی کا فیصلہ کر رہے تھے، دوسرے فریق کا اصرار ہے کہ خان اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران اپنی اپوزیشن کے تمام اہم مخالفین کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ جنرل باجوہ جب بولیں گے تو ان کے پاس بتانے کے لیے اس سے مختلف کہانی نہیں ہوگی جو سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان پر لگائے تھے۔

بشیر میمن کی طرح، جنہوں نے الزام لگایا تھا کہ اس وقت کے وزیر اعظم نے خان کے مخالفین کو گرفتار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا، ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم بھی جنرل باجوہ سے اس وقت کے اپوزیشن کے متعدد سیاستدانوں کو گرفتار کرنے کا کہہ رہے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ جب باجوہ نے کہا کہ وہ یہ کیسے کر سکتے ہیں تو خان ​​نے جنرل مشرف اور ان کے دور حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین سے نمٹنے کے ان کے فیشن کا حوالہ دیا تھا۔ اس پر باجوہ نے مبینہ طور پر عمران کو بتایا تھا کہ مشرف ایک ڈکٹیٹر تھے۔

باجوہ نے خان سے کہا کہ وہ جو چاہیں تحریری طور پر حکم دیں۔ تاہم خان نے ایسا نہیں کیا۔ ان ذرائع کا الزام ہے کہ نیب کو اس وقت کے وزیراعظم نے بیرسٹر شہزاد اکبر اور ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کے ذریعے کنٹرول کیا تھا۔

ان ذرائع نے دعویٰ کیا کہ جب نئے ڈی جی آئی ایس آئی نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تو وزیر اعظم ےنے ملک کے خفیہ ادارے کے اعلیٰ اہلکار سے پاکستان کے بڑے مسئلے کے بارے میں پوچھا تھا۔

ان ذرائع کے مطابق خان کو بتایا گیا کہ ’یہ معیشت ہے‘۔ لیکن خان نے جواب دیا ’نہیں، یہ اپوزیشن ہے‘۔

ریٹائرڈ جنرل کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ ایک موقع پر پی ٹی آئی کے کئی وزراء کی موجودگی میں باجوہ نے مبینہ طور پر عمران خان کو ان کے تمام مخالفین کے ساتھ ساتھ ان کی پارٹی کے بہت سے رہنماؤں کومزہ چکھانے کی خواہش کے خلاف خبردار کیا تھا۔

تاہم یہ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ باجوہ سابق وزیر اعظم کو مشورہ دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنی مخالفت کے بجائے معیشت پر توجہ دیں۔

اپنی حکومت کے دوران خود عمران خان کو نیب کے خوف اور اس کے معیشت اور سویلین بیوروکریسی پر منفی اثرات کی شکایت کرتے ہوئے سنا گیا ہے۔ لیکن اپوزیشن کو ٹھیک کرنے کی ان کی خواہش نے نیب میں اصلاحات نہیں ہونے دیں۔

جنرل باجوہ پر زیادہ تر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس پر گہری نظر رکھی جس کو عام طور پر ’عمران خان پروجیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔ خان کے مخالفین اور میڈیا کے بہت سے مبصرین کا الزام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے تقریباً ایک دہائی قبل عمران خان کی حمایت شروع کی تھی۔

پی ٹی آئی کا 2014 کا دھرنا بھی عمران خان کے منصوبے کا حصہ ہونے کا الزام ہے جس نے مبینہ طور پر 2017 اور 2018 میں اپنے عروج کو دیکھا۔

عمران خان کے دور میں اسٹیبلشمنٹ نے ان کا ایسا ساتھ دیا جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور وزیر اعظم ہوتے ہوئے، خان نے بار بار اس کا اعتراف کیا اور جنرل باجوہ کو اب تک کا بہترین آرمی چیف قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔

خان نے جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دی، اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اس سال مارچ میں ایک اور توسیع کی پیشکش کی تھی اور بعد میں اکتوبر 2022 میں بھی تجویز دی تھی کہ باجوہ کو اگلے عام انتخابات کے انعقاد اور نئی منتخب حکومت کی تشکیل تک جاری رہنے دیا جائے۔

جنرل (ر) باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ سے کچھ دیر قبل اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے غلطیاں کیں۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ ایک ادارے کے طور پر فوج نے فروری 2021 میں غیر سیاسی ہونے کا فیصلہ کیا۔