ضم اضلاع میں توانائی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

مشیر توانائی خیبر پختونخوا حمایت اللہ خان نے کہا ہے کہ ضم قبائلی اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحی بنیادوں پر تکمیل موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اسی لئے ان علاقو ں میں جاری توانائی کے منصوبوں کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کرکے پایا تکمیل تک پہنچانا ہماراعزم ہے۔

صوبے میں جاری شمسی توانائی کے منصوبوں پر کام کی رفتارکے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ Access to Clean Energy پروگرام کے تحت محکمہ توانائی وبرقیات خیبر پختونخوا اور خصوصاً قبائلی اضلاع میں شمسی توانائی کے تحت سرکاری دفاتر، سکولوں، گھروں، بنیادی طبی مراکز اور مساجد کو سولرنظام پر منتقل کرنے کے لئے 8 منصوبوں پر کام کررہا ہے جن کی تکمیل سے صوبے میں توانائی کے بحران کو کافی حد تک کنٹرول کرلیا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ وہائوس کو 376 کلو واٹ سمیت سول سیکرٹریٹ کو 500 کلو واٹ پر شمسی نظام پر منتقل کرنے کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جو رواں سال کے آخرتک مکمل کر لئے جائیں گے، اسی طرح جنوبی اضلاع کے 100 گاؤں میں شمسی نظام کی منتقلی کا منصوبہ بھی آئندہ سال فروری میں مکمل کرلیا جائے گا۔

اسی طرح ضم اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے دیگر اضلا ع میں 4 ہزار اور 300 مساجد کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقلی کے منصوبوں پر بھی جلد کام کا آغاز کیا جائے گا جبکہ ضلع چترال کے 1000 گھرانوں کو بھی شمسی نظام سے منسلک کیا جائے گا۔