پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کا بیان مسترد کردیا

پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کردیا، وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے سیاسی نظریے ہندو توا نے نفرت اور تفرقہ بازی کے ماحول کو جنم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے گجرات قتل عام کی حقیقتوں سے چھپنے کی کوشش کی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گجرات قتل عام بڑے پیمانے پر قتل، عصمت دری اور لوٹ مار کی شرمناک کہانی ہے، حقیقت یہ ہے کہ گجرات قتل عام کے ماسٹر مائنڈ انصاف سے بچ گئے، وہ ماسٹر مائنڈ اب بھارت میں اہم سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندو توا کے جرائم کو کوئی بھی لفظ چھپا نہیں سکتا، حکمران جماعت کے سیاسی نظریے ہندو توا نے نفرت اور تفرقہ بازی کے ماحول کو جنم دیا ہے.

انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کے ماسٹر مائنڈ اور مجرموں کی بریت انصاف کے قتل عام کو ظاہر کرتی ہے، حملے میں بھارتی سرزمین پر 40 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مذہبی اقلیتوں کو دھمکانے اور شیطانیت کو بھارت بھر کی ریاستوں میں سرکاری سرپرستی حاصل ہے، ہندو توا کو عبادت گاہوں کی توڑ پھوڑ اور مذہبی اجتماعات پر حملہ کرنے کے لیے اتار دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر کا مرتکب ہے، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گرد گروہوں کا کفیل اور مالی معاون ہے.

انہوں نے کہا کہ بھارتی دہشت گردی پر جاری ڈوزیئر میں ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، ڈوزیئر میں موجود ثبوت دہشت گردانہ حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہیں،

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ لاہور حملے کو بھارتی ریاست نے اکسایا، منصوبہ بندی کی اور اس کی مالی معاونت کی۔

بھارتی وزارت خارجہ کا بیان بھارت کی بڑھتی ہوئی مایوسی کا بھی عکاس ہے، بھارت پاکستان کو بدنام کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے اور اس کے لیے بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو شدت سے استعمال کر رہا ہے۔