افغانستان میں ایک ہی دن میں 20 افراد کو کوڑوں کی سزا

افغانستان میں طالبان حکومت کے حکم پر مختلف سنگین جرائم میں ملوث 20 افراد کو ایک ہی دن میں سرعام کوڑے مارے گئے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکومت کے حکم پر مختلف جرائم میں ملوث 20 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے ہیں۔ سزا پانے والے افراد مبینہ طور پر زنا، چوری اور دیگر جرائم میں ملوث پائے گئے تھے۔

جنوبی صوبے ہلمند کے گورنر کے ترجمان محمد قاسم ریاض کے مطابق سزا پر عملدرآمد دارالخلافہ لشکرگاہ کے اسپورٹس اسٹیڈیم میں کیا گیا اور ہر مجرم کو 35 سے 39 کوڑے مارے گئے ہیں۔

اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ سزا پانے والے دیگر افراد کو ان کے جرائم کے مطابق قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ایسی سخت گیر پالیسیاں لاگو کی ہیں، جو ان کے بقول اسلامی قانون اور شریعت کی عکاسی کرتی ہیں۔

ایک ہفتہ قبل طالبان حکام نے ایک افغان شہری کو قتل کے جرم میں سرعام موت کی سزا دی تھی۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلی سرعام موت کی سزا تھی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق سزا پر عملدرآمد مقتول کے والد سے کروایا گیا جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے کلاشنکوف کے ذریعے مجرم کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ صوبہ فراہ میں پیش آیا جہاں سینکڑوں افراد اور طالبان کے عہدیدار بھی موجود تھے جب کہ کچھ طالبان عہدیدار کابل سے بھی گئے تھے۔

طالبان کی جانب سے قتل کے مجرم کو سرعام سزائے موت دینے پر اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر سخت تنقید ہوئی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا تھا کہ طالبان کے امریکہ کے مستقبل کے تعلقات کا انحصار انسانی حقوق سے متعلق اقدامات پر ہوگا۔