نئے آرمی چیف سوچ کے لحاظ سے اچھے انسان ہیں، صدر علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف سید عاصم منیر سوچ کے لحاظ سے ایک اچھے انسان ہیں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے  انٹرویو میں کہا کہ اہم تعیناتی سے متعلق افواہیں بھی بہت گردش کرتی رہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اہم تعیناتی سے متعلق پُرسکون طور پر حل ہوئے۔ اہم تعیناتی سے متعلق تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان تعیناتیوں سے متعلق میرا خیال تھا کہ سب سے مشاورت ہونی چاہیے۔ جب لندن میں مشاورت ہو رہی تھی تو پاکستان میں اس سلسلے میں مشاورت نہ ہونا درست نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تعیناتیوں کی سمری آئی تو میں مشاورت کرنے کیلیے عمران خان کے پاس گیا تھا۔

سمری پر دستخط سے پہلے نئے آرمی چیف سے ملاقات اچھی روایت ہے۔ بات چیت میں تو بہت سے آپشنز پر بات ہوتی رہتی ہے۔ اہم تعیناتی سے متعلق معاملہ پارلیمان کا کام ہے لیکن ادارے سے بھی مشاورت ہونی چاہیے۔

صدر علوی نے کہا کہ پاکستان میں مارشل لا نہیں لگ سکتا۔ جمہوریت مستحکم ہوگئی ہے۔ نئے آرمی چیف سوچ کے اعتبار سے مجھے اچھے لگے۔ اداروں کے درمیان جو اعتماد کا فقدان ہے امید ہے نئے آرمی چیف اسے کم کرینگے۔ سیاستدانوں کے درمیان بھی اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج بار بار کہہ رہی ہے کہ وہ سیاست سے دور ہونا چاہتی ہے جو بہت اچھی بات ہے اور اسے سراہنا چاہیے۔ ماضی کو چھوڑ کر مستقبل سے متعلق زیادہ پریشان رہوں تو اچھی بات ہے۔