ٹویٹر پر ذبیح اللہ مجاہد نے گریٹر افغانستان کے نقشہ شیئر کرنے پر تنقید

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں دورے کے موقع پر افغان طالبان کے ترجمان اور افغانستان کے قائم مقام نائب وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے گریٹر افغانستان کامتنازع نقشہ شیئر کردیا۔

نقشے میں پاکستان کے کئی علاقے افغانستان کا حصہ دکھائے گئے تھے بعدازاں پاکستانی صحافیوں کی جانب سے نشاندہی کرنے پر ذبیح اللہ مجاہد نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا۔

افغان طالبان کے ترجمان اور افغانستان کے قائم مقام ڈپٹی وزیراطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر دنیا کا متنازع نقشہ شیئر کردیا۔نقشے میں پاکستان کے وسیع علاقے کو افغانستان کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد کے ٹوئٹ میں درج کردہ تفصیلات کے مطابق یہ نقشہ کابل شہر کے دوسرے ضلع کے اروند دیہان باغ چوک میں نصب کیا گیا ہے جس کا عنقریب افتتاح ہوگا۔ یہ نقشہ 12 سیل فی منٹ کی کی رفتار سے حرکت کرے گا اور اس پر 10 لاکھ افغانی کی لاگت آئی ہے۔

پاکستان میں عرب نیوز کے نمائندے نعمت خان نے ذبیح اللہ مجاہد کا ٹوئٹ ری ٹوئٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ذبیح اللہ مجاہد نے یہ نقشہ جان بوجھ کر شیئر کیا ہے یا ان سے غلطی سرزد ہوئی ہے؟

متعدد پاکستانی صحافیوں کی جانب سے معاملے کی نشاندہی کیے جانے کےبعد ذبیح اللہ مجاہد نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا۔نعمت خان کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے پوتے ابراہیم قاضی نے لکھا کہ طالبان بھی دیگرافغانوں اور پشتونوں کی طرح ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتے اور اس نقشے کو لوئے افغانستان ( گریٹر افغانستان) تصور کرتے ہیں جو اس نقشے میں دکھایاگیا ہے۔

ایک اور صارف نے اپنے تبصرے میں لکھاکہ” نقشہ شیئر کرنے کا موقع دیکھیں ، یہ اس شیئر کیاگیا ہے جس دن ہمارے آرمی چیف نے سرحدی علاقوں کا دورہ کیا ہے جیسے ایک پیغام دینا چاہتے ہیں“۔