خیبرپختونخوا اسمبلی میں منرل سیکٹر گورننس ترمیمی ایکٹ منظور

Share on facebook
Share on google
Share on twitter
Share on linkedin

خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبے میں معدنیات کے شعبہ میں آسانیاں پیدا کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے خیبرپختونخوا منرل سیکٹر گورننس ترمیمی ایکٹ 2019 کی منظوری دے دی۔

ترمیمی ایکٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے وزیر معدنیات ڈاکٹر امجدعلی کا کہنا تھا کہ ایکٹ سے نئے ضم شدہ اضلاع میں کان کنی کے طریقہ کار وضع ہوسکیں گے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل سے صوبے میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ ہوگا اور غیر قانونی کان کنی کا خاتمہ ہوسکے گا۔

وزیر معدنیات کا کہنا تھا کہ ترمیمی بل کے تحت نئے ضم شدہ اضلاع میں معدنیات کے لائسنز کی فراہمی میں مقامی افراد کو فوقیت دی جائے گی جبکہ انہیں دیگر سرمایہ کاروں کے ساتھ جائنٹ وینچر کی سہولت بھی دی گئی ہے، ترمیمی بل کے تحت صوبے میں ادنی معدنیات کے لئے ای بیڈنگ کا سلسلہ بھی شروع کیا جائیگا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا اسمبلی میں بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا، سپیکر ڈیسک کا گھیراؤ کرکے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑدیں تاہم اپوزیشن جماعتوں کے شدید شور شرابے کے باوجود ایوان نے منرلز ترمیمی بل اور لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور کرلئے۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن کی ہلڑبازی کے پیش نظر سپیکر نے اجلاس غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

گزشتہ روز خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر مشتاق احمد غنی کی سربراہی میں حسب معمول ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کے دوران مختلف بلز پیش کئے گئے جن میں صوبائی وزیر قانون سلطان محمد خان اور وزیر معدنیات امجد خان نے اسمبلی میں مسلم فیملی لاء ترمیمی بل 2019، لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2019، خیبرپختونخوا پناہ گاہ بل 2019 اور خیبرپختونخوا منرلز سیکٹر گورننس ترمیمی بل 2019 پیش کئے جس کے دوران اپوزیشن جماعتوں سمیت قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے اراکین نے بل کی مخالفت کردی اور بل کو پاس کرنے کیلئے پیش کردہ تحریک کے دوران شدید ہلڑ بازی شروع کردی۔

اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے منرلز بل کو قبائلی اضلاع کے وسائل کو اپنے لوگوں میں تقسیم کرنے کا بل قرار دیتے ہوئے ایوان میں احتجاج شروع کردیا اور اپنی سیٹوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا اور بل کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔

اس دوران اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردارحسین بابک نے کہاکہ حکومت نے ایوان میں بغیر مشاورت بل تیارکرکے اکثریت پر ڈاکہ ڈالا ہے، منرلز بل کے حوالے ایک بھی رکن اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں معلومات دی گئی ہیں، حکومت اپنی اکثریت سے قانون سازی کرکے اسمبلی کارروائی بلڈوز کردیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کرتارپور کاریڈور کھولنے پر خوشی کا اظہار کررہی ہے لیکن دوسری طرف احمد شاہ بابا اور خوشحال خان بابا سے عقیدت رکھنے والوں کیلئے راستے بند کردیے گئے ہیں جس پر ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا۔

قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی بلال آفریدی نے بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلز کی تیاری میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے منتخب نمائندوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے، جن لوگوں نے ہمیں ووٹ دیکر منتخب کیا ہے انہیں کیا بتائیں گے لہذا ہم اس بل کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں جس پر صوبائی وزیر قانون نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ منرلز سیکٹر میں ترامیم انتہائی ضروری ہیں، سابقہ فاٹا میں معدنیات کے فروغ کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے جس میں قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے، بل میں مائنز کی ملکیت قبائلی اضلاع کو دینے کی سفارش کی گئی ہے، عجلت میں بل پیش نہیں کیا گیا ہے، اگر اپوزیشن کے تحفظات ہیں تو وزیر معدنیات وضاحت کردیں گے جس پر صوبائی وزیر معدنیات امجد خان نے کہا کہ منرلز سیکٹر گورننس ترمیمی بل پر گزشتہ ایک سال سے مشاورت کی جارہی تھی اور باقاعدہ مشاورت سے بل تیار کرکے ایوان میں پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں ریونیو جنریٹ نہیں ہورہی ہے جس کیلئے صوبائی حکومت نے ایک پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا جسے پہلے لاء ڈیپارٹمنٹ بھجوایا گیا جبکہ مائنز سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد سے بھی مشاورت کی گئی ہے جس کے بعد بل تیار کرکے ایوان میں لایا گیا ہے۔

حکومتی رکن محمد شفیق آفریدی نے کہا کہ صوبے میں مائنز لیز پر نہیں دی جارہی تھیں جس کے نتیجے میں قبائلی نوجوان بے روزگار ہورہے تھے اسی وجہ سے حکومت نے منرلز سیکٹر گورننس ترمیمی بل تیار کیا ہے تاکہ قبائلی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں لہذا اس بل کو تاخیر کئے بغیر ایوان سے منظور کیا جائے جس پر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین آپے سے باہر ہوگئے اور بل کی شدید مخالفت کرتے ہوئے احتجاج شروع کردیا۔

علاوہ ازیں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر سردار حسین بابک نے اپو زیشن جماعتوں کے تمام ممبران کو جمعرات کو (آج) صوبائی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں ایک اہم اجلاس کے سلسلے میں طلب کیا اور انہیں درخواست کی کہ وہ بر وقت اجلاس میں پہنچنے کی کوشش کریں۔

اجلاس میں آج سی ایم ہاؤس کے سامنے احتجاج پر بحث کے علاوہ آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بحث کی جائیگی۔

انہو ں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں صوبے کے وسائل کو برابری اور ضرورت کی بنیاد پر تقسیم بنانے کو عملی بنائے اور صوبے کے پسماندہ علاقوں کو ترقی کے عمل میں شامل کرے تاکہ ان کی محرومیو ں کا ازالہ ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ حکو مت اپوزیشن کے علاقو ں کو دیوار سے لگانے سے گریز کرے، صوبے کے وسائل پر صوبے کے تمام عوام کا یکساں حق ہے، حکومت اپنو ں کو نوازنے اور نا انصافی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم سے اجتناب کر ے، این ایف سی ایوارڈ اور مرکزی حکومت کے ذمے صوبے کے واجبات کے حصول کیلئے تماشائی کی بجائے اپنا کردار ادا کرے۔

سردارحسین بابک کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کا جاری طریقہ کار انتہائی نامناسب اور پارلیمانی اصولوں کے خلاف ہے، صوبے میں امن وامان کی بگڑی ہوئی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔