کالعدم تنظیم لشکر اسلام کے جنگجو کو 14 سال قید بامشقت کی سزا

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر اسلام باڑہ سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو کو 14 سال قید بامشقت اور جرمانہ کی سزا سنا دی۔

محکمہ انسداد دہشت گردی خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ پشاور کی سپیشل چھاپہ مار ٹیم کو مخبر نے اطلاع دی کہ ایک شدت پسند بادیزئی روڈ میاں خان گڑھی پشاور میں دہشت گردی کی غرض سے موجود ہے۔

بیان کے مطابق چھاپہ مار ٹیم نے مذکورہ شدت پسند کو بادیزئی روڈ میاں خان گڑھی پشاور سے ایک عدد ہینڈ گرینڈ اور 30 بور پستول و کارتوس سمیت گرفتار کر لیا تھا جس نے دوران تفتیش اپنا نام آمین شاہ ولد عبدالمنان سکنہ شلوبر قمبر خیل ضلع خیبر اور خود کو لشکر اسلام منگل باغ کا سرگرم رکن ظاہر کیا تھا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ برآمد کردہ اسلحہ و ایمونیشن اور ہینڈ گرینڈ کو پولیس نے قبضے میں لے لیا تھا اور بم ڈسپوزل یونٹ نے ہینڈ گرنیڈ کو ناکارہ بنا دیا تھا جبکہ گرفتار شدت پسند کے خلاف کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ پشاور نے انسداد دہشتگردی ایکٹ سال 1997 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کیلئےخصوصی تفتیشی ٹیم مقرر کی تھی، تفتیش کے دوران سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے۔

بیان کے مطابق دوران تفتیش گرفتار شدت پسد نے دہشت گردانہ کاروائیوں کی غرض سے ذخیرہ کردہ بارودی مواد سے متعلق انکشاف کیا تھا جس کی نشاندہی پر بھوٹان شریف کلف تیراہ ضلع خیبر سے بذریعہ ڈیٹیکٹر متعلقہ جگہ کی کھدائی کرنے پر 37 عدد پیٹی کارتوس، 12.7 بور کے 3145 کارتوس، 03 عدد RPG-7 گولے، دو عدد مارٹر گولے 60MM، ایک عدد RPG-7 فیوز اور ایک عدد پرائمر برآمد کئے گئے۔

بیان کے مطابق عدالت انسداد دہشتگردی پشاور نے مقدمہ کی سماعت کی اور جرم ثابت ہونے پر ملزم آمین شاہ ولد عبدالمنان سکنہ شلوبر قمبرخیل ضلع خیبر کو مجموعی طور پر 14 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانہ، نیز جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک ماہ قید کی سزا سنائی جس کے بعد ملزم کو سنٹرل جیل پشاور منتقل کر دیا گیا۔