پشاور: توہینِ رسالت کے کیس میں مجرم کو دو بار سزائے موت

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے توہینِ رسالت کے کیس میں مجرم کو دو بار سزائے موت جبکہ توہین صحابہ سمیت دیگر دفعات میں 21 سال قید اور مجموعی طور پر 16 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنا دی۔

استعاثہ کے مطابق مدعی مقدمہ نے فیڈرل انوسٹی گیشن اتھارٹی کے سائبر کرام برانچ اسلام آباد کو سلیمان سکنہ کرنل شیر خان صوابی نے 23 فروری 2021 کو تحریر طور پر شکایت کی کہ ملزم ثناء اللہ کوٹیگرام ادینزئی لوئر دیر نے ایک وٹس ایپ گروپ (الحاد بمقابلہ اسلام) میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ص اور امہات المؤمنین کی توہین آمیز تصاویر شیئر کیں جس سے کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی جس کے بعد ایف آئی اے نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا اور ملزم کے خلاف تحت مقدمہ درج کر لیا۔

مقدمے کی سماعت مکمل ہونے اور جرم ثابت ہونے پر ملزم ثناء اللہ کو 295 سی میں دو بار سزائے موت، دفعہ 295 اے میں دس سال قید، دفعہ 298 اے میں تین سال، 7 اے ٹی اے میں پانچ سال اور پی ای سی اے 2016 میں تین سال قید جبکہ مجموعی طور پر 16 لاکھ روپے جرمانہ کی سزاء سنا دی۔

رپورٹس کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سینٹرل جیل کو مجرم کی سزائے موت کی توثیق کے لیے ریفرنس ہائی کورٹ بھیجنے کی بھی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ مجرم ثنا اللہ کے خلاف گزشتہ سال اگست میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد تشہیر کرنے پر توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔